
ئی دہلی، 25 اکتوبر(ہ س)۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت یوکرین اور مغربی ایشیا کے دو بڑے تنازعات میں الجھی ہوئی ہے اور ان کی سب سے بھاری قیمت وہ معاشرے اور معیشتیں ادا کر رہے ہیں جن کا ان تنازعات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسے حالات میں ہم محض خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتے۔ بھارت بات چیت اور سفارت کاری پر زور دے کر دراصل عالمی جذبات کی ترجمانی کر رہا ہے اور اس سمت میں دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
چنمے امرت مہوتسو عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتوار کو جے شنکر نے کہا کہ پیچیدہ سپلائی چین، عالمی منڈیوں اور مشترکہ وسائل کے اس دور میں دنیا اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب کچھ حصے خوش حال ہوں اور باقی محرومی کا شکار رہیں۔ ان کے مطابق، ایسی صورت حال مسلسل عدم استحکام کو برقرار رکھنے کا سبب بنتی ہے۔
وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کو امن کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک آج بھی سیاسی مفادات اور مصلحتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور اسے کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔جے شنکر نے کہا کہ دنیا کو اس مشترکہ خطرے کے تئیں زیادہ بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف مضبوط عزم کے ساتھ متحد ہو کر کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے دن کے موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ انسانیت میں مسابقت اور تعاون کے درمیان توازن کو لے کر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے اور عالمی سطح پر اس کا اظہار ممالک کے باہمی تعلقات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً آٹھ دہائیاں قبل اقوام متحدہ کا قیام اجتماعی تعاون کے جذبے کا مظہر تھا۔ 24 اکتوبر کو منائے جانے والے اقوام متحدہ کے دن کے موقع پر عالمی یکجہتی کو فروغ دینا ضروری ہے، کیونکہ عالمی چیلنجوں اور مواقع سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔جے شنکر کے مطابق، موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے حل کے لیے بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ عالمی امن اور استحکام کے لیے ممالک کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan