حوثیوں کی دھمکی: مسافر ریاض ایئرپورٹ سے دور رہیں، مکہ و جدہ میں میزائل کے ٹکڑے گرے
ریاض ، 25 اکتوبر(ہ س)۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے فضائی مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے دور رہیں۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہوائی اڈہ غیر محفوظ ہے اور ان کے جنگجوؤں کے نشانے پر ہے۔
حوثیوں کی دھمکی: مسافر ریاض ایئرپورٹ سے دور رہیں، مکہ و جدہ میں میزائل کے ٹکڑے گرے


ریاض ، 25 اکتوبر(ہ س)۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے فضائی مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے دور رہیں۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہوائی اڈہ غیر محفوظ ہے اور ان کے جنگجوؤں کے نشانے پر ہے۔ گروپ نے اسے تباہ کرنے کو اپنا فوجی ہدف قرار دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض کی جانب آنے والے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔ میزائل کے ٹکڑے مکہ مکرمہ اور جدہ میں گرے ہیں۔ ادھر یمن کی حکومت نے بتایا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے عدن پر حملہ کیا اور امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام ہونا چاہیے اور خطے کے ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر مل کر اسے قائم کرنا چاہیے۔عراقچی نے کہا، ’’گزشتہ ڈیڑھ سال کے تنازعات ایک اہم موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے کسی کے لیے امن یا سلامتی لانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے برعکس، یہ عدم تحفظ کا سبب بنے ہیں۔ ایران بنیادی طور پر ایسی کسی بھی پہل کا خیرمقدم کرتا ہے جو خطے کے ممالک کے درمیان خود انحصاری کو فروغ دے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں خطے میں جنگ بھڑکانے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ عراقچی کے مطابق، اسرائیل نے مسلسل امن اور استحکام کے قیام میں رکاوٹ ڈالی ہے اور تنازعات کو ہوا دینے کے ساتھ دوسرے ممالک کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کو اپنے امن اور استحکام کے لیے غیر ملکی افواج کی موجودگی ختم کرنے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نہ ایران اور نہ ہی عمان نے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کے راستے میں کبھی کوئی رکاوٹ ڈالی ہے، بلکہ دونوں ممالک نے ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ سلامتی کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام اب پہلے جیسا نہیں رہے گا۔

دریں اثنا، یمن میں حوثی جنگجو طائز شہر کے قریب واقع اہم پہاڑی علاقے جبل صبر کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جنگجوؤں نے شہر کا محاصرہ کر لیا ہے اور عدن جانے والی مرکزی سڑک کو بھی بند کر دیا ہے۔ عدن بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا عبوری دارالحکومت ہے۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں پھنسے تقریباً آٹھ لاکھ افراد تک امداد پہنچانے کے لیے وقت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، سعودی قیادت والے اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خمیس مشیط کے اوپر حوثیوں کی ایک کروز میزائل کو بھی مار گرایا ہے۔مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، ڈرون اور میزائل حملوں کے دعووں اور ایران و امریکہ کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات نے خطے کی صورت حال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ تاہم مختلف فریقوں کے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande