
کیف/واشنگٹن، 24 اکتوبر (ہ س)۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت حملہ بولتے ہوئے ان کے بیانات کو ’پوری طرح سے جھوٹا‘ قرار دیا ہے۔ زیلینسکی نے الزام لگایا کہ ٹرمپ امریکہ میں ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے لیے روس کی آئل ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، عالمی توانائی بحران کی اہم وجوہات میں ایران سے وابستہ تنازعہ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں رکاوٹ شامل ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر یوکرین کے حملوں اور ایندھن کی عالمی سپلائی کو لے کر واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
روس کے بین الاقوامی نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک رشیا ٹوڈے (آر ٹی) کے مطابق، اسٹیون بارٹلیٹ کے پوڈکاسٹ ’دی ڈائری آف اے سی ای او‘ میں گفتگو کے دوران زیلینسکی نے کہا کہ روسی ڈیزل برآمدات کا امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں پر براہِ راست اثر محدود ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے دعووں کو غلط معلومات قرار دیا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر امریکی صدر توانائی کی قیمتوں کو لے کر اس قدر فکر مند ہیں، تو امریکی کمپنیاں دوسرے ممالک کو توانائی کی برآمدات کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کا سوال بھی اسی بحث سے جڑا ہوا ہے۔
زیلینسکی نے ٹرمپ پر ایران سے وابستہ بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے یوکرین کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا الزام یوکرین پر ڈال دیا جاتا ہے اور ملک کے لیڈر کے طور پر انہیں ذاتی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یوکرینی صدر کے مطابق، موجودہ توانائی بحران کی جڑ آبنائے ہرمز میں ہے۔ یہ بحری راستہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وہاں جہازوں کی نقل و حرکت اور تیل کی برآمد متاثر ہونے سے بین الاقوامی توانائی مارکیٹ پر دباو بڑھ سکتا ہے۔
ٹرمپ مسلسل یوکرین سے روسی آئل ریفائنریوں اور توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر کی دلیل ہے کہ ایسے حملوں سے ایندھن کی عالمی سپلائی متاثر ہوتی ہے اور قیمتوں میں تیزی آ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے زیلینسکی پر عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے مشکلات بڑھانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مقابلے زیلینسکی کے ساتھ بات چیت کرنا زیادہ مشکل رہا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اشارہ دیا کہ یوکرین کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے، جو امریکہ کی مصالحتی کوششوں میں رکاوٹ نہ بنے۔
رپورٹ کے مطابق، ایندھن کے عالمی بحران کو کم کرنے کے مقصد سے واشنگٹن نے روسی ڈیزل کی برآمد پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی ڈھیل دی تھی۔ اس قدم پر زیلینسکی نے نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے کمزور فیصلہ قرار دیا۔
وہیں، روس نے امریکی اور عالمی مارکیٹوں میں ڈیزل کی سپلائی بڑھانے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق، ماسکو نے فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل کی سپلائی کے علاوہ نومبر میں 5 لاکھ ٹن اور بعد کے مراحل میں اضافی سپلائی کا منصوبہ بتایا ہے۔ آئندہ کا حجم ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت پر منحصر ہوگا۔ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ یوکرین کی جانب سے روسی توانائی تنصیبات پر حملے جاری رکھنے سے ایندھن کی سپلائی پر دباو بڑھ رہا ہے۔ وہیں، کیف کا کہنا ہے کہ روس کے خلاف اس کے حملے جنگ کے دوران اس کی فوجی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی زیلینسکی پر عالمی ڈیزل بحران کو کم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ روسی توانائی تنصیبات پر یوکرینی حملے بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن کی دستیابی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب، امریکہ میں ایندھن کی بڑھتی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم داخلی مسئلہ بن گئی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ستمبر میں بعض امریکی مارکیٹوں میں ڈیزل کی قیمتیں 6.50 ڈالر فی گیلن سے اوپر پہنچ گئیں، جبکہ کیلیفورنیا کے کچھ علاقوں میں یہ عدد 8 ڈالر فی گیلن کے پار چلا گیا۔
واضح رہے کہ آئندہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ امریکی انتظامیہ پر سیاسی دباو بڑھا سکتا ہے۔ ادھر، حالیہ مہینوں میں یوکرین نے روس کے اندر توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے حملے تیز کیے ہیں۔ روس نے ان حملوں کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے یوکرین کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن