
سری نگر، 24 اکتوبر (ہ س): جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہر معاملے پر بے باک سمجھے جاتے ہیں، نے معمول کے برخلاف گزشتہ چند دنوں کے دوران میڈیا سے گفتگو میں نامہ نگاروں کے سوالات سے بچتے دکھائی دئے۔ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ بظاہر پڑوسی مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں پنچایتی اور میونسپل انتخابات، جموں و کشمیر میں اب تک ایسے انتخابات نہ کرائے جانے کی وجوہات اور کابینہ میں متوقع توسیع یا ردوبدل جیسے سوالات سے بچنا چاہ رہے ہیں۔
ایک صحافی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا: ’’دوسرا دن، تین پروگرام، اور پروگراموں سے ہٹ کر سوالات پر پابندی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ گزشتہ دو دنوں سے سیاسی اور دیگر معاملات پر میڈیا نمائندوں کے سوالات سے گریز کر رہے ہیں۔ پروگراموں سے ہٹ کر سوالات پر ان کی پابندی اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ کابینہ میں ردوبدل اور اس سے آگے کے معاملات پر قیاس آرائیوں اور افواہوں کو مزید ہوا دینا چاہتے ہیں۔‘‘
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور ترجمان الطاف ٹھاکر نے ہندوستھان سماچار سے گفتگو میں کہا کہ کابینہ میں توسیع آج متوقع ہے۔ پنچایتی انتخابات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس چاہتی ہے کہ اقتدار اس کے اراکین اسمبلی تک ہی محدود رہے۔
انہوں نے کہا: ’’مجھے نہیں لگتا کہ وہ یہاں مستقبل قریب میں پنچایتی انتخابات کرانے کے حق میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو بھی حکمرانی ہے، وہ ان کے اراکین اسمبلی تک ہی محدود رہے۔‘‘
الطاف ٹھاکر نے دعویٰ کیا کہ جب بھی جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات ہوں گے، نیشنل کانفرنس کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’لوگ ان سے بہت ناراض ہیں۔ انہوں نے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ یہ لوگ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر پائے۔‘‘
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ترجمان فردوس ٹاک نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس نے گزشتہ دو سال وزیر اعظم مودی کی تعریف کرنے یا مرکز کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات جتانے میں صرف کیے۔ انہوں نے کہا: ’’جہاں تک ان کے انتخابی وعدوں کی بات ہے، تو ان میں سے اب تک کوئی پورا نہیں ہوا۔ لہٰذا ان کے پاس سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔‘‘
فردوس ٹاک نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی تاریخ رہی ہے کہ وہ مرکزی سرکار کی چہیتی بننا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹکراؤ تو دور کی بات ہے، یہ لوگ یہاں کے عوام کے حقوق مانگنے سے بھی شرماتے نظر آتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / ظہور حسین بٹ