
ہمالیائی خطے کے تحفظ کے لیے نیپال، ہندوستان اور چین کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور، اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں سے قابل اعتماد مالی مدد فراہم کرنے کا مطالبہکاٹھمنڈو، 24 اکتوبر(ہ س)۔ نیپال کی سابق صدر ودیا دیوی بھنڈاری نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ نیپال کے موسمیاتی انصاف کے مطالبے کو سنجیدگی سے لے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حالیہ غیر متوقع قدرتی آفات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نیپال کے لیے کتنے سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔
ودیا دیوی بھنڈاری نے ہفتہ کو چین میں چائنا انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ ’گلوبل گورننس فورم 2026‘ سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی انصاف کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے سکریٹریٹ کے مطابق، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی نظام حکمرانی کا مسئلہ موسمیاتی انصاف سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
سابق صدر نے کہا کہ ہمالیہ کا خطہ علاقائی آبی چکر، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے مشترکہ قدرتی ورثہ ہے۔ اس کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہمالیائی ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، نیپال، ہندوستان اور دیگر ہمالیائی ممالک کو موسمیاتی معلومات کے تبادلے، گلیشیئرز کی نگرانی، پیشگی انتباہی نظام اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانا چاہیے۔ ان کے مطابق، مشترکہ کوششوں سے موسمیاتی خطرات کو کم کرنے اور قدرتی آفات کے نقصانات سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔
ودیا دیوی بھنڈاری نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ ممالک کے لیے طویل مدتی اور قابل اعتماد امداد کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ نیپال ایسے عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے جس میں ممالک کے درمیان تعلقات طاقت کے بجائے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر چلائے جائیں، تمام ممالک کی آواز کو اہمیت دی جائے اور کمزور و قدرتی آفات کے خطرات سے دوچار ممالک کے خدشات کو مناسب مقام دیا جائے۔
سابق صدر کے مطابق، اقوام متحدہ کو ایک ایسی مؤثر عالمی تنظیم کے طور پر مضبوط بنانا ضروری ہے جو موجودہ دنیا کے تنوع اور مختلف ممالک کی امنگوں کی عکاسی کر سکے۔
ودیا دیوی بھنڈاری نے امن اور ترقی کو ایک دوسرے کا تکملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غربت اور بھوک کا خاتمہ، انسانی فلاح و بہبود کو فروغ دینا اور ہتھیاروں کی دوڑ پر خرچ ہونے والے وسائل کو ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے جامع، قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی اور ماحول دوست ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ان کے مطابق، غربت کا خاتمہ، معیاری تعلیم و صحت کی سہولتیں، روزگار کے مواقع، سماجی انصاف اور ماحول کا تحفظ عالمی تعاون کی بنیادی ترجیحات ہونی چاہئیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan