
پاسی گھاٹ (آسام)، 24 اکتوبر (ہ س)۔ اروناچل پردیش کے پاسی گھاٹ میں مجوزہ سیا نگ اپر ملٹی پرپز پروجیکٹ (ایس یو ایم پی) کے خلاف جاری تحریک ہفتے کی علی الصبح پُرتشدد ہوگئی۔ مظاہرین نے ارکانِ اسمبلی اور بی جے پی کے ریاستی صدر کی رہائش گاہوں میں توڑ پھوڑ کی، جبکہ کئی سرکاری اداروں اور گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا۔
مظاہرین نے ارکانِ اسمبلی نینونگ ایرنگ اور اونی پنیانگ کے رہائشی احاطوں اور اروناچل پردیش بی جے پی کے صدر کلنگ مویونگ کے گھر کو نشانہ بنایا۔ اس دوران نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) کے پاسی گھاٹ واقع دفتر، ایک مقامی پولیس تھانے اور پولیس کی سات گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ تشدد کا آغاز اپر سیانگ ضلع کے گیکو میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد ہوا۔ اطلاعات کے مطابق، بند کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس واقعے میں چار خواتین شدید زخمی ہوگئیں، جس کے بعد مظاہرین میں غم و غصہ پھیل گیا۔
مظاہرین میں نوجوانوں کی شرکت بھی دیکھی گئی۔ تحریک کے اہم مطالبات میں ڈیم مخالف احتجاج کے سابقہ مراحل کے دوران حراست میں لیے گئے 10 افراد کی فوری رہائی شامل ہے۔
این ایچ پی سی کے اس مجوزہ اہم آبی بجلی منصوبے کی مقامی برادری طویل عرصے سے مخالفت کر رہی ہے۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس منصوبے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنا پڑے گی اور ماحولیات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس سے قبل ینگکیونگ میں رکنِ اسمبلی آلو لیبانگ کی رہائش گاہ پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ تشدد کے تازہ واقعات نے اس منصوبے کے حوالے سے علاقے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد