روس کے تاتارستان میں آیورویدک مرکز کے قیام کا فیصلہ، بھارت اور روس کے درمیان تعاون کو ملے گی تقویت
وجیہ لکشمی کازان، 24 اکتوبر (ہ س):۔ روایتی ہندوستانی طریقہ علاج آیوروید کو روس میں فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم پہل کی گئی ہے۔ روس کے تاتارستان میں پہلا آیورویدک مرکز قائم ہونے جا رہا ہے۔ اس مرکز کی تعمیر کا کام 2028 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ دو
روس کے تاتارستان میں آیورویدک مرکز کے قیام کا فیصلہ، بھارت اور روس کے درمیان تعاون کو ملے گی تقویت


روس کے تاتارستان میں آیورویدک مرکز کے قیام کا فیصلہ، بھارت اور روس کے درمیان تعاون کو ملے گی تقویت


وجیہ لکشمی

کازان، 24 اکتوبر (ہ س):۔

روایتی ہندوستانی طریقہ علاج آیوروید کو روس میں فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم پہل کی گئی ہے۔ روس کے تاتارستان میں پہلا آیورویدک مرکز قائم ہونے جا رہا ہے۔ اس مرکز کی تعمیر کا کام 2028 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ دوسرے کازان بھارت-روس بزنس فورم میں روس کے صوبہ تاتارستان کے ضلع زیلینوڈولسک میں آیورویدک مرکز قائم کرنے کے لیے ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس منصوبے میں ہندوستانی صحت اور ویل نیس برانڈز بھی تعاون کریں گے۔

اس منصوبے کا مقصد علاقے میں ہندوستانی روایتی طریقہ علاج کی مانگ کا جائزہ لینا، آیورویدک خدمات کی توسیع کے امکانات تلاش کرنا اور لوگوں کو اس طریقہ علاج سے فائدہ پہنچانا ہے۔

تاتارستان انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ ایجنسی کی چیف ایگزیکٹیو افسر تالیا مینولینا نے ہندوستھان سماچار کو بتایا کہ آیوروید کا رواج بڑھ رہا ہے۔ اسی کے مدنظر ٹائم بزنس فورم میں ایک آیورویدک مرکز کھولنے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ روس کے اس علاقے میں آیورویدک علاج اور ہندوستانی روایتی طبی خدمات کو کس حد تک قبولیت حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پہل کو ہندوستان اور روس کے درمیان عارضی روزگار سے متعلق نئے دوطرفہ نظام سے بھی مدد ملنے کی امید ہے۔ اس سے مقررہ اہلیت اور تربیت مکمل کرنے والے ہندوستانی ماہرین، مثلاً سند یافتہ آیورویدک معالجین اور تھیراپسٹ، کے لیے روس میں کام کرنے کے مواقع آسان ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاتارستان میں ہندوستانی طلبہ کی موجودگی بھی دونوں ممالک کے درمیان طبی شعبے میں تعاون کی ایک اہم بنیاد ہے۔ یہاں ایک ہزار سے زائد ہندوستانی طلبہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے میں نیا آیورویدک مرکز دونوں ممالک کے درمیان صحت کی خدمات، طبی تعلیم اور روایتی طریقہ علاج کے تبادلے کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

کازان میں ہندوستانی طلبہ کی بڑھتی تعداد

روس کے شہر کازان میں ہر سال ہندوستانی طلبہ میڈیکل کی تعلیم کے لیے داخلہ لیتے ہیں۔ فیس نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے ہر سال سیکڑوں ہندوستانی طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔ لکھنو¿ کے رہنے والے اور اب روسی شہری بن چکے ڈاکٹر آشوتوش دویدی شمالی ہندوستان کے طلبہ کے داخلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پرولونگ ایجوکیشن کنسلٹنٹس کے ڈائریکٹر دویدی کے مطابق، ہر سال یہاں 150 سے 170 طلبہ داخلہ لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کازان میں ایم بی بی ایس کی تعلیم کی سالانہ فیس پہلے 4.16 لاکھ روبل، یعنی تقریباً 4.92 لاکھ روپے تھی، جو اب بڑھ کر 6.37 لاکھ روبل، یعنی تقریباً 7.53 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان کے نجی میڈیکل کالجوں کے مقابلے میں یہ فیس اب بھی کافی کم ہے۔ ان کے مطابق پانچ سال میں 40 لاکھ روپے سے بھی کم خرچ میں یہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر آشیش مہندرا نے بتایا کہ سال 2019 میں نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے نیٹ امتحان میں کم از کم اہلیت کے نمبر حاصل کرنے کا ضابطہ نافذ کیا تھا۔ اس بار کم از کم نمبروں کی حد زیادہ ہونے کی وجہ سے داخلوں میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے عام زمرے کے طلبہ کے کم از کم نمبر 150 تھے، جب کہ اس سال یہ حد بڑھ کر 250 ہو گئی۔ اسی طرح محفوظ زمرے کے طلبہ کے لیے کم از کم نمبر 120 سے بڑھا کر 177 کر دیے گئے۔

اس کے علاوہ اس سال نیٹ، ری نیٹ اور پھر امتحان ہونے کے باعث ہندوستان میں داخلوں کے عمل میں تاخیر ہوئی، جب کہ روس میں داخلے ستمبر کے دوران مکمل ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے طلبہ کے داخلوں کی تعداد کم رہی۔ مہندرا کے مطابق، پورے روس میں تقریباً 20 ہزار ہندوستانی طلبہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

کیا کہتے ہیںطلبا؟

تمل ناڈو کے کوئمبٹور کے رہنے والے اور دوسرے سال کے طالب علم چرنجیوی نے بتایا کہ 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد اگلے سال ان کے یہاں داخلوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب فیس میں اضافہ ہو گیا ہے اور ہاسٹل میں رہنے پر ماہانہ تقریباً چھ ہزار روبل خرچ ہوتے ہیں۔

ویلور کی ہری پریہ اشوکا نے بتایا کہ ان کی کازان اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی میں شمالی ہندوستان کے طلبہ کی تعداد زیادہ ہے، اس کے بعد جنوبی ہندوستان کے طلبہ آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں زبان اور سبزی کی دستیابی بڑی رکاوٹ ہوتی ہے، لیکن پوری تعلیم انگریزی میں ہونے کی وجہ سے پڑھائی میں کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی۔ رفتہ رفتہ روسی زبان بھی سمجھ میں آنے لگتی ہے۔

ایم بی بی ایس کے پہلے سال کی طالبات، ہریدوار کی تنو چودھری اور گورکھپور کی فرحین خان نے بتایا کہ یوکرین جنگ کا ان کی پڑھائی یا روزمرہ کی زندگی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ کبھی کبھار الرٹ جاری ہوتا ہے، لیکن اب یہاں کے حالات اور لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے انہیں عادت ہو گئی ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande