

۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے 7 افراد کی موت کی تصدیق کی، دو گاڑیاں تباہ
۔ نائب وزیر اعلیٰ نے دھماکے کی وجوہات کی تفصیلی جانچ کے احکامات دیے
امراوتی، 24 اکتوبر (ہ س)۔ آندھرا پردیش کے الّوڑی سیتارام راجو (اے ایس آر) ضلع میں ہفتہ کو سڑک کی تعمیر کے مقام کے قریب ہوئے زوردار دھماکے میں سرکاری اسکول کی ایک خاتون ٹیچر سمیت 7 افراد کی موت ہوگئی۔ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ امت بردار نے تمام سات افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔ یہ حادثہ اننت گری منڈل کے پیناکوٹا کے قریب پیش آیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جائے وقوع پر موجود دو گاڑیوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان نے اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دھماکے کی وجوہات کی تفصیلی جانچ کے احکامات دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق، پیناکوٹا کے قریب سڑک کی تعمیر کا کام جاری تھا۔ تعمیراتی مقام پر چٹانوں کو توڑنے کے لیے دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ اسی دوران جیلٹن کی چھڑوں سے لدی ایک پک اپ گاڑی کے قریب آگ لگنے اور اس کے بعد زوردار دھماکہ ہونے کی اطلاع ملی۔ دھماکے کی زد میں تعمیراتی کام میں مصروف مزدوروں کے ساتھ وہاں سے گزرنے والی ایک خاتون ٹیچر بھی آگئیں۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تعمیراتی مقام پر مزدور ایک پک اپ گاڑی سے ڈیزل اور پٹرول ایک ٹپر گاڑی میں منتقل کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اسی دوران اچانک ایک گاڑی میں آگ لگ گئی۔ آگ تیزی سے پھیلتے ہوئے قریب رکھے ایل پی جی سلنڈر تک پہنچ گئی، جس کے بعد شدید دھماکہ ہوا۔ تاہم، دھماکے کی وجوہات کی سرکاری طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اس حادثے میں مجموعی طور پر 7 افرادہلاک ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، پانچ افراد نے جائے وقوع پر ہی دم توڑ دیا، جب کہ شدید طور پر زخمی دو دیگر افراد کی اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوگئی۔ مرنے والوں میں گاڑی کا ڈرائیور، معاون، مشین آپریٹر، سڑک کی تعمیر کے کام سے وابستہ مزدور اور ایک سرکاری اسکول کی خاتون ٹیچر شامل ہیں۔
متوفی ٹیچر کی شناخت وشاکھاپٹنم کے مدھوراواڑہ کی رہنے والی سنیتا کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کے وقت وہ تعمیراتی مقام کے قریب سے گزر رہی تھیں اور اچانک ہونے والے دھماکے کی زد میں آگئیں۔
دیگر متوفیان میں ایم منی کانت، نارائن راو¿، پون کمار، پروین اور ٹنکو کے نام سامنے آئے ہیں۔ ٹنکو مشین آپریٹر تھا اور اس کا تعلق بہار سے بتایا جا رہا ہے، جب کہ پون کمار آسام کا رہنے والا تھا۔ساتویں متوفی کی شناخت ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ تمام متوفین کی ذاتی معلومات اور حادثے کے وقت ان کے کردار کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے ضلع کلکٹر سے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں
نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان نے اے ایس آر ضلع کے کلکٹر سے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔ کلکٹر نے بتایا کہ ترقیاتی کاموں کے لیے ڈیزل لے جانے والی ایک ٹپر گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے بعد اچانک دھماکہ ہوگیا۔
کلکٹر کی جانب سے نائب وزیر اعلیٰ کو دی گئی ابتدائی معلومات میں چار افراد کی موقع پر ہی موت ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ بعد میں پولیس سپرنٹنڈنٹ امت بردار نے حادثے میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد سات ہونے کی تصدیق کی۔
نائب وزیر اعلیٰ نے متوفین کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے حالات اور دھماکے کی اصل وجوہات کی تفصیلی جانچ ضروری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریاستی حکومت غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
حادثے کی وجوہات کے حوالے سے فی الحال مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹوں میں ایندھن منتقل کرنے کے دوران آگ لگنے اور اس کے ایل پی جی سلنڈر تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وہیں، ضلع کلکٹر نے دو گاڑیوں کے ٹکرانے کے بعد دھماکہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔
تعمیراتی مقام پر جیلٹن کی چھڑیاں موجود ہونے کے باعث دھماکے میں ان کے ممکنہ کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ دھماکہ کس وجہ سے شروع ہوا اور اس میں آتش گیر ایندھن، ایل پی جی سلنڈر یا جیلٹن کی چھڑ کا کیا کردار رہا۔
پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات اور واقعات کی پوری تفصیل واضح ہو سکے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد