دہلی میں فضائی آلودگی کے ذرائع کا پتہ لگانے والی لیبارٹری کا افتتاح
نئی دہلی، 24 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی اور قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ہفتہ کے روز ایک نئی لیبارٹری شروع کی گئی۔ اپنی نوعیت کی پہلی مربوط فضائی کیمیا اور ایروسول زہریلے پن کے تجزیے کی لیبارٹری (اے اے ٹی اے ا
دہلی میں فضائی آلودگی کے ذرائع کا پتہ لگانے والی لیبارٹری کا افتتاح


نئی دہلی، 24 اکتوبر (ہ س)۔

دہلی اور قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ہفتہ کے روز ایک نئی لیبارٹری شروع کی گئی۔ اپنی نوعیت کی پہلی مربوط فضائی کیمیا اور ایروسول زہریلے پن کے تجزیے کی لیبارٹری (اے اے ٹی اے ایل) نہ صرف آلودگی کی سطح معلوم کرے گی، بلکہ یہ بھی بتائے گی کہ ہوا میں آلودگی کہاں سے آرہی ہے اور اس کے لیے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی پہل پر شروع کیے گئے ’مشن موسم‘ کے تحت اس لیبارٹری کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس کا مقصد آلودگی کی وجوہات کو سمجھ کر ان کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

لیبارٹری کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اب تک آلودگی پر ہونے والی زیادہ تر گفتگو اس بات تک محدود رہتی تھی کہ شہر کا فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) کتنا ہے، لیکن نئی لیبارٹری سے یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ ہوا میں کس قسم کے نقصان دہ ذرات موجود ہیں، وہ کہاں سے آرہے ہیں اور انسانی صحت پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آلودگی کم کرنے کے لیے صرف اس کی سطح جاننا کافی نہیں ہے، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آلودگی میں اضافے کے لیے کس ذریعے کا کتنا حصہ ہے۔

اس لیبارٹری کی مدد سے گاڑیوں کے دھوئیں، کارخانوں، پرالی جلانے، تعمیراتی کاموں اور سڑکوں کی دھول سے ہونے والی آلودگی کا پتہ لگایا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ آس پاس کے علاقوں سے دہلی-این سی آر میں آنے والی آلودگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ڈاکٹر سنگھ نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ لیبارٹری کی اسکرین پر دکھائے گئے اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت دہلی کی آلودگی میں گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کا حصہ تقریباً 25 فیصد تھا۔ اس وقت آلودگی کی سطح تقریباً 180 درج کی گئی تھی۔ اس طرح کی معلومات سے آلودگی کی اہم وجوہات کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے گی۔

اس لیبارٹری کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم) کے ’ایئر وائز‘ نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس کی مدد سے دہلی کے مختلف علاقوں میں اگلے 72 گھنٹوں، یعنی تین دن تک فضائی آلودگی کی پیش گوئی کی جاسکے گی۔

منصوبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سچن گھوڑے نے کہا کہ اس سہولت کے ذریعے آلودگی میں اضافے کی پیشگی اطلاع مل سکے گی۔ اس سے متعلقہ ایجنسیاں بروقت ضروری اقدامات کرسکیں گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande