
متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز، ملبے میں دبے افراد کی تلاش جاری
لہاسا، 23 اکتوبر(ہ س)۔
تبت میں جمعرات کی رات آنے والے 7.0 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ اس قدرتی آفت میں تقریباً 16 افراد کی موت ہوگئی، جبکہ 32 دیگر زخمی ہوگئے۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں سے 300 سے زائد مکانات منہدم ہوگئے۔ انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، زلزلہ جمعرات کی رات تقریباً 10 بج کر 33 منٹ پر آیا۔ جمعہ کی صبح 2 بج کر 25 منٹ تک موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق، زخمیوں میں 11 کی حالت سنگین تھی، جبکہ 21 افراد کو معمولی چوٹیں آئی تھیں۔ جائے وقوع پر موجود افسران نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے کا کام جاری ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق، زلزلے کا مرکز تبت کے شہر ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق-شمال مشرق اور علاقائی دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ایک پہاڑی علاقے میں تھا۔ زلزلہ زمین کی سطح سے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔
مقامی حکام نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز باکین کاؤنٹی کے مارو ٹاؤن شپ میں تھا۔ ٹاؤن شپ کے نائب سربراہ لہاوانگ ڈاگپو کے مطابق، زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ ٹاؤن شپ کے دفتر کی دیواروں میں دراڑیں پڑگئیں۔ زلزلے کے باعث کاؤنٹی ہیڈکوارٹر میں بجلی اور ٹیلی مواصلات کی خدمات بھی متاثر ہوئیں۔
زلزلے کے بعد حکام نے متاثرہ علاقے میں ’لیول2‘ ہنگامی ردعمل نافذ کردیا ہے۔ راحت اور بچاؤ کارروائیوں کے لیے زلزلے کے مرکز کے قریب 300 سے زائد پولیس اہلکاروں کو بھیجا گیا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی فائر بریگیڈ اور بچاؤ ٹیموں کے 347 اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔
راحت اوربچاؤ ٹیمیں ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش، زخمیوں کو امداد پہنچانے اور تباہ شدہ عمارتوں کا معائنہ کرنے میں مصروف ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جانی و مالی نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جارہا ہے۔
تبت اور اس کے آس پاس کے ہمالیائی علاقوں میں زلزلے آنا غیر معمولی بات نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جنوری 2025 میں تبت کی ٹنگری کاؤنٹی میں 6.8 شدت کے تباہ کن زلزلے میں 120 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔اس سے قبل 2010 میں پڑوسی صوبے چنگھائی کے یوشو علاقے میں 7.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس آفت میں کم از کم 2,698 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ تقریباً 300 افراد لاپتہ ہوگئے تھے۔حالیہ زلزلے نے ایک بار پھر اس خطے میں زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
تبت میں یہ زلزلہ ایسے وقت آیا ہے جب خطہ حالیہ تباہ کن سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق، 26 اگست 2026 کو نیپال-تبت سرحد کے قریب برف اور چٹانیں کھسکنے کے بعد اچانک سیلاب آگیا تھا۔ اس آفت میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا اور بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے تھے۔سیلاب کے باعث کئی مکانات، سڑکیں اور پل بہہ گئے تھے، جبکہ بعض پن بجلی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ آبادی کو دوبارہ آباد کرنے اور بنیادی سہولتوں کو بحال کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔
ماہرین کے مطابق، چنگھائی-تبت سطح مرتفع میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت، گلیشیئرز کا سکڑنا اور موسم کے غیر معمولی واقعات قدرتی آفات کے خطرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ تازہ زلزلے نے ایک بار پھر اس خطے کی حساس جغرافیائی صورت حال کو نمایاں کردیا ہے۔ یہاں کی کئی آبادیاں پہلے ہی دشوار گزار جغرافیائی حالات اور حالیہ قدرتی آفات کے اثرات سے نبرد آزما ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan