
کاٹھمنڈو، 23 اکتوبر(ہ س)۔ نیپال میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے قائم ’لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ‘ (نقصانات اور تباہی سے متعلق فنڈ) نے ملک کو 2 کروڑ امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 3 ارب 2 کروڑ نیپالی روپے کی امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اطلاع وزارت زراعت، جنگلات اور ماحولیات نے دی ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یہ رقم 26 اگست کو بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ خاندانوں اور برادریوں کو راحت پہنچانے، ان کی بازآبادکاری اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے فراہم کی جائے گی۔ اس سیلاب میں 1500 سے زائد افراد کی جان جاچکی ہے، جبکہ 5000 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ سیلاب سے 15 ہزار سے زائد خاندانوں کے 60 ہزار سے زیادہ افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
سیلاب سے ابتدائی طور پر ہونے والے معاشی نقصان کا تخمینہ تقریباً 2 ارب 70 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے تقریباً 4 ارب 70 کروڑ ڈالر کی ضرورت پڑنے کا اندازہ ہے۔
سیلاب متاثرین تک تیزی سے امداد پہنچانے کے مقصد سے 31 اگست کو نیپال کے وزیر خزانہ ڈاکٹر سورنِم واگلے اور وزیر زراعت گیتا چودھری نے فنڈ کے بورڈ سے خصوصی درخواست کی تھی۔ اس درخواست کی بنیاد پر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک، کم ترقی یافتہ ممالک، چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک اور ایشیا-بحرالکاہل، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مغربی ممالک کے گروپوں سے تعلق رکھنے والے بورڈ اراکین کے درمیان مختلف مراحل میں رسمی اور غیر رسمی بات چیت ہوئی۔وزارت زراعت کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر مہیشور ڈھکال نے بتایا کہ 22 اکتوبر کو منعقدہ بورڈ کے خصوصی اجلاس میں نیپال کو امداد دینے کے فیصلے کو حتمی شکل دی گئی۔ نیپال کی جانب سے وزارت زراعت کے جوائنٹ سکریٹری اور ترجمان ڈاکٹر ڈھکال نے رابطہ کار اور معاون کا کردار ادا کیا۔
وزارت کے مطابق، اس فنڈ سے رقم حاصل کرنے کے لیے نیپال بارباڈوس امپلیمنٹیشن فریم ورک کے تحت ایک تجویز تیار کرکے فنڈ کے سامنے پیش کرے گا۔وزارت نے یہ بھی بتایا کہ فنڈ کے بورڈ کا 11واں اجلاس 17 سے 19 مارچ 2027 تک نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو میں منعقد ہوگا۔نیپال کے قومی رابطہ افسر اور فنڈ کے متبادل بورڈ رکن ڈاکٹر مہیشور ڈھکال نے کہا کہ امداد کی منظوری سے نیپال میں موسمیاتی مالیات کے شعبے میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیپال میں موسمیاتی مالیات کی تاریخ میں اس سے بہتر اور تاریخی فیصلہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ نیپال کے لیے جتنا اہم ہے، اتنا ہی اس نے نقصانات اور تباہی سے متعلق فنڈ کی تاریخ میں بھی ایک نئے باب کی بنیاد رکھی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan