فرانس میں تشدد پر ٹرمپ سے بھڑے میکرون، کہا: غیر ملکی رہنماؤں کے تبصرے احمقانہ ہیں
پیرس، 23 اکتوبر (ہ س)۔ فرانس میں جاری پرتشدد احتجاج اور ہنگاموں کے معاملے پر صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو نشانہ بنایا ہے۔ میکرون نے فرانس کی صورت حال پر غیر ملکی رہنماو¿ں کے تبصروں کو ”احمقانہ اور ناقابل قبول“ قرار دیا۔ انہو
فرانس میں تشدد پر ٹرمپ سے بھڑے میکرون، کہا: غیر ملکی رہنماو¿ں کے تبصرے احمقانہ ہیں


پیرس، 23 اکتوبر (ہ س)۔

فرانس میں جاری پرتشدد احتجاج اور ہنگاموں کے معاملے پر صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو نشانہ بنایا ہے۔ میکرون نے فرانس کی صورت حال پر غیر ملکی رہنماو¿ں کے تبصروں کو ”احمقانہ اور ناقابل قبول“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض رہنما تشدد کے لیے تارکین وطن اور اسلام پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جبکہ ان دعوو¿ں کی حمایت میں واضح ثبوت موجود نہیں ہیں۔

روسی ٹی وی نیٹ ورک ’رشیا ٹوڈے‘ کے مطابق، یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا، جب ٹرمپ نے فرانس میں تشدد کے لیے میکرون حکومت کی سرحدی اور امیگریشن پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ تارکین وطن، جہادیوں اور بائیں بازو کے گروہوں نے فرانس میں تباہی مچائی ہے۔ اس کے جواب میں میکرون نے کہا کہ غیر ملکی رہنما واقعات سے متعلق معلومات کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں۔

میکرون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں جاری بدامنی کے حوالے سے غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں، جن سے متاثر ہوکر بعض غیر ملکی رہنماو¿ں نے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے۔ انہوں نے کہا، ”بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ تارکین وطن اور اسلام پسندوں کے ہجوم نے ہم پر حملہ کردیا ہے، جو سراسر جھوٹ ہے۔“

جب میکرون سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا اشارہ ٹرمپ کی طرف تھا، تو انہوں نے کہا کہ یہ بات ٹرمپ سمیت دیگر رہنماو¿ں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے فرانسیسی حکومت پر سرحدوں کی حفاظت میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا اور یورپی ممالک سے اپنی سرحدیں بند کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے فرانس میں تشدد کی تصاویر کو امریکی سیاست میں بھی استعمال کیا اور خبردار کیا کہ ایسی صورت حال امریکہ میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ فرانس میں احتجاج کا آغاز اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی خراب حالت جیسے مسائل سے ہوا تھا۔ بعد ازاں یہ مظاہرے عدم مساوات، مہنگائی اور عوامی خدمات میں کٹوتی کے خلاف ایک وسیع تحریک میں تبدیل ہوگئے۔ مظاہروں کے دوران کئی شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ آتش زنی، لوٹ مار اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔

میکرون کے بیرون ملک دورے پر سیاسی تنازع

ہنگاموں کے دوران میکرون کے بیرون ملک دورے کو لے کر بھی فرانس میں سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ صدر نے اپنا دورہ منسوخ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے گھبراہٹ کا پیغام جاسکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کو حالات پر قابو پانے کے لیے ضروری ہدایات دے دی گئی تھیں۔

دوسری جانب اپوزیشن رہنماو¿ں نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب پیرس اور دوسرے شہروں میں تشدد ہورہا تھا، اس وقت صدر ملک سے باہر تھے۔ اسی وجہ سے انہیں ”غیر حاضر صدر“ کہہ کر نشانہ بنایا گیا۔ سیاسی دباو¿ کے درمیان میکرون کی مقبولیت میں کمی کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ ان کے مخالفین میرین لے پین اور ژاں لوک میلانشوں کو حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کا موقع مل گیا ہے۔

تشدد دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر فرانسیسی حکومت نے سکیورٹی مزید سخت کرنے کی تیاری کی ہے۔ وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے اہم مقامات پر لوگوں کے اجتماع کو کنٹرول کرنے کے لیے پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم نے ہنگاموں سے متاثرہ شہروں کے میئروں کے ساتھ میٹنگ کرکے مزید تشدد روکنے کے اقدامات پر تبادل خیال کرنے کی تیاری کی ہے۔

فرانس میں تشدد کے پیچھے غیر ملکی مداخلت کا شبہ

فرانس میں تشدد کے پیچھے غیر ملکی مداخلت کے امکان پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔ بعض یورپی میڈیا رپورٹس میں روس، ایران اور الجزائر کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اٹلی کے وزیر دفاع گائیدو کروزیتو نے خدشہ ظاہر کیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی نامعلوم فریق کی جانب سے ’ہائبرڈ جنگ‘ چلائی جاسکتی ہے۔ البانیہ کے وزیر اعظم ایڈی راما نے بھی روس اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں پر الزامات عائد کیے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande