فرانس کے صدر میکرون کے سابقہ بیان پر ایران کا اعتراض، جوہری پالیسی کے حوالے سے وضاحت طلب
تہران، 23 اکتوبر (ہ س)۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ عراقچی نے میکرون کے حالیہ دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے 2018 میں امریکی کانگری
ایران


تہران، 23 اکتوبر (ہ س)۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ عراقچی نے میکرون کے حالیہ دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے 2018 میں امریکی کانگریس کے سامنے کی گئی ان کی تقریر کا حوالہ دیا اور فرانسیسی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سابقہ اور موجودہ مؤقف میں مطابقت اور وضاحت پیش کریں۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق، عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے میکرون کے سابقہ بیان اور حالیہ تبصرے کا موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں میکرون نے ایران کے جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے اس سے دست بردار ہونے سے انکار کیا تھا، جب کہ اب وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ سے ایران میں کسی بھی قسم کی جوہری سرگرمی کے مخالف رہے ہیں۔

عراقچی نے 25 اپریل 2018 کو امریکی کانگریس میں میکرون کی جانب سے کی گئی تقریر کا حوالہ دیا۔ اس وقت فرانسیسی صدر نے مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (جے سی پی او اے) کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاہدہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک اہم لائحۂ عمل فراہم کرتا ہے۔

عراقچی نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’2018 میں امریکہ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے الگ ہونے سے عین قبل، میکرون نے امریکی کانگریس کے سامنے زور دے کر کہا تھا کہ فرانس جے سی پی او اے سے دست بردار نہیں ہوگا، کیونکہ ہم نے اس پر دستخط کیے ہیں۔‘‘

میکرون کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب فرانسیسی صدر دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ سے ایران میں کسی بھی قسم کی جوہری سرگرمی کے مخالف رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے براہِ راست میکرون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’جناب صدر! پہلے اپنا مؤقف تو واضح کیجیے۔‘‘

جے سی پی او اے کیا ہے؟

جے سی پی او اے، یعنی مشترکہ جامع منصوبۂ عمل، 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں—امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی—کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کرنا اور اس پر پابندیاں عائد کرنا تھا، جس کے بدلے ایران کو اقتصادی پابندیوں میں نرمی ملنی تھی۔ بین الاقوامی سطح پر اس معاہدے کو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا گیا تھا۔

تاہم، مئی 2018 میں امریکہ کے اُس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

عراقچی نے میکرون کی 2018 کی تقریر کے اقتباسات کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔ اس تقریر میں میکرون نے کہا تھا کہ فرانس معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس کے متبادل انتظام کے بغیر اسے ترک کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے معاہدے کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ایران سے متعلق دیگر خدشات کا حل تلاش کرنے کی بھی وکالت کی تھی۔

عراقچی کا استدلال ہے کہ میکرون کے سابقہ بیان اور حالیہ تبصرے میں واضح تضاد دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق، فرانسیسی صدر کو وضاحت کرنی چاہیے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور 2015 کے معاہدے کے حوالے سے ان کا حقیقی مؤقف کیا ہے۔

اس تنازع نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کی پالیسیوں اور سفارتی حکمتِ عملی پر بحث تیز کر دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande