
ریاض/واشنگٹن، 22 اکتوبر (ہ س)۔
یمن کے حوثی باغیوں کے مسلسل اور مہلک حملوں کے درمیان امریکہ نے سعودی عرب میں اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، اردن، قطر اور بحرین میں تعینات امریکی سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو بھی وہاں سے نکالنے کا عمل شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان امریکہ کے اس اقدام کو خطے میں سلامتی سے متعلق سنگین خدشات سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا ادارے جیو نیوز کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کے روز سعودی عرب میں تعینات ان امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت دینے کی تصدیق کی، جن کی وہاں موجودگی فوری طور پر ضروری نہیں ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے اس فیصلے کو سعودی عرب میں ہوائی اڈوں سمیت مختلف مقامات پر حوثیوں کے حملوں سے جوڑا۔ تاہم، ایک سفارتی ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب میں واقع امریکی سفارت خانے کے تمام امریکی ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو وہاں سے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی محکمہ خارجہ کے سرکاری بیان میں صرف غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس ماہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغی تنظیم نے سعودی عرب پر تقریباً روزانہ حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے، جسے حالیہ برسوں کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
بدھ کے روز سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ تیل کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئے ڈرون کو مار گرایا گیا۔ تاہم، ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری شامل ہیں۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب واقع شیبہ تیل کے میدان کو نشانہ بنانے والا ڈرون کس نے بھیجا تھا۔ اس سے قبل بدھ ہی کے روز یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے چھ ڈرون مار گرانے کی اطلاع دی تھی۔
مسلسل ہونے والے ان حملوں نے خطے میں توانائی کی تنصیبات اور شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازع نے پہلے ہی علاقائی سلامتی کی صورتِ حال کو سنگین بنا رکھا ہے۔
سال 2015 سے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتا آرہا ہے، جبکہ حوثی باغیوں کا ملک کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی ختم ہونے کے بعد تشدد میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے، جس سے سعودی عرب اور آس پاس کے ممالک میں حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ