بھاگلپور میں دھان کی بمپر پیداوار کی امید، کھیتوں میں لہلہانے لگیں سنہری بالیاں
بھاگلپور، 22 اکتوبر(ہ س)۔ بہار کے بھاگلپور ضلع کے دیہی علاقوں میں دھان کی فصل پک کر تیار ہونے لگی ہے۔ موافق مانسون اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث اس بار دھان کی اچھی پیداوار کی امید ہے، جس سے کسانوں کے چہروں پر خوشی نمایاں ہے۔ کھیتوں میں ل
بھاگلپور میں دھان کی بمپر پیداوار کی امید، کھیتوں میں لہلہانے لگیں سنہری بالیاں


بھاگلپور، 22 اکتوبر(ہ س)۔ بہار کے بھاگلپور ضلع کے دیہی علاقوں میں دھان کی فصل پک کر تیار ہونے لگی ہے۔ موافق مانسون اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث اس بار دھان کی اچھی پیداوار کی امید ہے، جس سے کسانوں کے چہروں پر خوشی نمایاں ہے۔ کھیتوں میں لہلہاتی سنہری بالیاں بہتر فصل اور منافع کی امید جگا رہی ہیں۔

محکمہ زراعت کی جانب سے خریف سیزن کے لیے مقررہ ہدف کے مطابق ضلع کے بڑے حصے میں دھان کی کاشت کی گئی تھی۔ اب فصل پکنے کے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ ابتدائی اور درمیانی مدت میں تیار ہونے والی دھان کی اقسام کی کٹائی جلد شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ اکتوبر کے آخری ہفتے سے نومبر تک بڑے پیمانے پر کٹائی متوقع ہے۔

بہار زرعی یونیورسٹی سبور کے زرعی سائنس دانوں نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ فصل پکنے کے اس مرحلے میں کھیتوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ کٹائی سے 10 سے 15 دن پہلے کھیتوں سے پانی نکال کر زمین کو خشک کرنا ضروری ہے۔ اس سے دھان کی کٹائی میں آسانی ہوگی اور فصل کے گرنے، دانوں کے خراب ہونے اور معیار متاثر ہونے کے خدشات بھی کم ہوں گے۔

سینئر زرعی سائنس داں اور ماہرِ زراعت ڈاکٹر وکاس کمار کے مطابق اس سال مانسون نے بھاگلپور اور آس پاس کے علاقوں میں دھان کی فصل کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت دھان کی بالیاں پک کر بھاری ہو چکی ہیں، اس لیے کھیتوں میں پانی روکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کٹائی سے تقریباً دو ہفتے قبل پانی نکال دینے سے زمین سخت اور خشک ہو جائے گی، جس سے کمبائن ہارویسٹر یا مزدوروں کے ذریعے کٹائی آسان ہوگی اور اناج کا معیار بھی بہتر رہے گا۔

کسان راج کمار پنجیارا نے بتایا کہ فصل کی ابتدائی مرحلے میں موسم کو لے کر کچھ تشویش ضرور تھی، لیکن بعد میں مانسون نے اچھا ساتھ دیا۔ بروقت بارش ہونے سے ڈیزل پمپ کے ذریعے بار بار آب پاشی کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ان کے مطابق اس بار فی ایکڑ دھان کی بالیاں گھنی اور لمبی ہیں، جس سے پیداوار اچھی ہونے کی امید بڑھ گئی ہے۔ کسانوں کو توقع ہے کہ نومبر کے آغاز سے کٹائی میں تیزی آئے گی اور بہتر پیداوار کے ساتھ انہیں اچھا منافع بھی حاصل ہوگا۔

ہندوستھان ساماچار

---------------

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande