کاروبار دو گنا کریں گے بھارت اور پولینڈ، اہم معدنیات اور دفاعی شعبے میں تعاون بڑھائیں گے
نئی دہلی، 22 اکتوبر (ہ س):۔ بھارت اور پولینڈ 2030 تک اپنی باہمی تجارت کو دوگنا کریں گے۔ پولینڈ بھارت کے اقدام ’کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینس انفراسٹرکچر‘ (آفات سے نمٹنے کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کا اتحاد) میں شامل ہوگا۔ دونوں ممالک دفاعی صنعت اور
بھارت اور پولینڈ تجارت دوگنی کریں گے، اہم معدنیات اور دفاعی شعبے میں تعاون بڑھائیں گے


نئی دہلی، 22 اکتوبر (ہ س):۔

بھارت اور پولینڈ 2030 تک اپنی باہمی تجارت کو دوگنا کریں گے۔ پولینڈ بھارت کے اقدام ’کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینس انفراسٹرکچر‘ (آفات سے نمٹنے کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کا اتحاد) میں شامل ہوگا۔ دونوں ممالک دفاعی صنعت اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں مذاکرات کا نظام بھی قائم کریں گے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت دوگنی ہونے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور نئے امکانات سامنے آئیں گے۔ اس سے ترقی، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ دفاعی مذاکرات کا نظام قائم ہونے سے متعلقہ صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھے گا۔ اس کے ذریعے دونوں ممالک ترقی اور مشترکہ پیداوار کے امکانات تلاش کریں گے۔ دفاعی شعبے میں تحقیق اور اختراع کو فروغ ملے گا اور دفاعی سپلائی چین مضبوط ہوگی۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک کے درمیان جمعرات کو دہلی کے حیدرآباد ہاوس میں وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔ اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ بھارت اور پولینڈ کی اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ دونوں رہنماوں کے درمیان آج مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ 2024 میں قائم ہونے والی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھاتے ہوئے دونوں رہنماوں نے مصنوعی ذہانت، ماحول دوست ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے راستے تلاش کیے۔ اس کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت اور عوامی سطح پر تبادلوں کے ذریعے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے 2030 تک باہمی تجارت کو دوگنا کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ علاقائی اور عالمی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی اداروں میں اصلاحات اور ضابطوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

پولینڈ کے وزیر اعظم کے دورے کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی بریفنگ میں وزارتِ خارجہ کے سکریٹری برائے مغربی امور سِبی جارج نے بتایا کہ بھارت اور پولینڈ نے 2030 تک باہمی تجارت دوگنی کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 6.3 ارب امریکی ڈالر ہے، جب کہ پولینڈ میں بھارتی سرمایہ کاری تین ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کا اندازہ ہے۔ دونوں ممالک الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں، قابلِ تجدید توانائی اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں فریق خفیہ معلومات کے تحفظ، اہم معدنیات، دستاویزات کے ذخائر، ثقافت، سائنس اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق معاہدوں کو حتمی شکل دینے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے پولینڈ کی کمپنیوں کو ’میک اِن انڈیا‘ پروگرام سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ پولینڈ نے اصلاح شدہ اور توسیع شدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت بھی کی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور پولینڈ نے دفاع، خلائی ٹیکنالوجی اور جوہری توانائی جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے ان شعبوں میں مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے لیے پولینڈ کی کمپنیوں کو بھارت کے ساتھ شراکت داری کی دعوت دی۔ یوکرین اور مغربی ایشیا کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ بھارت امن کے قیام کے لیے کی جانے والی ہر بامعنی کوشش کی حمایت کرتا رہے گا۔

مودی نے کہا کہ بھارت اور پولینڈ کے تعلقات محض سفارتی رابطوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ انسانیت اور ہمدردی کی مشترکہ وراثت پر مبنی ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جام نگر اور کولہاپور کے شاہی خاندانوں نے پولینڈ کے ہزاروں بچوں اور خاندانوں کو بھارت میں پناہ دی تھی۔ انہوں نے ثقافتی روابط اور عوامی سطح پر میل جول کو دونوں ممالک کے تعلقات کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پولینڈ میں سنسکرت کی تعلیم اور ہندوستانیت کے مطالعے کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔ کراکوف شہر میں ہندوستانی مطالعات کے لیے ایک چیئر کا قیام بھی اسی ثقافتی تعلق کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔

پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے بھارت کے ساتھ اہم معدنیات، اسٹریٹجک وسائل، دفاع اور خلائی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ان شعبوں میں خود کفالت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مودی کے ساتھ بات چیت کے بعد ٹسک نے کہا کہ بھارت اور پولینڈ کی اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد اقتصادی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے وفود میں کمپنیوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک کان کنی، گیس، جہاز سازی، سیٹلائٹ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ڈرون کے شعبوں میں بلند حوصلہ اہداف رکھتے ہیں۔ انہوں نے جی-20 جیسے عالمی فورموں پر بھی باہمی تعاون کی امید ظاہر کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande