دوحہ میں پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی معاہدے بدر پر مہر لگائی
دوحہ، 22 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون کو مستحکم کرنے اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے مقصد سے بدھ کے روز ’بدر میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘ (معاہدے) پر دستخط کیے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے اس معاہدے کا
قطر کے دوحہ میں بدر معاہدے پر دستخط کے دوران ترکیہ کے دفاعی صنعتی سکریٹریٹ کے سربراہ ہلوک گورگون، ترکیہ کے وزیر دفاع یاسر گولر، قطر کے نائب وزیر اعظم اور دفاعی امور کے وزیر مملکت شیخ سعود بن عبد الرحمن بن حسن آل ثانی، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری۔


دوحہ، 22 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون کو مستحکم کرنے اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے مقصد سے بدھ کے روز ’بدر میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘ (معاہدے) پر دستخط کیے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے اس معاہدے کا بنیادی مقصد فوجی پیداوار، دفاعی ٹیکنالوجی، تربیت اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) کے شعبے میں چاروں ممالک کے مابین تعاون کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان کے اردو ٹیلی ویژن چینل دنیا نیوز اور بین الاقوامی میڈیا جیو نیوز کے مطابق، ترکیہ کی وزارتِ قومی دفاع کے بیان کے بموجب یہ معاہدہ چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور ان کی صنعتی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ وزارت نے کہا کہ اس اقدام سے ہر ملک کی دفاعی پیداوار سے متعلق مہارتوں سے استفادہ کرنے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور دوست ممالک کی دفاعی ضروریات کی تکمیل میں مدد مل سکتی ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں چاروں ممالک کے سینئر دفاعی نمائندوں نے شرکت کی۔ ترکیہ کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، پاکستان کی طرف سے وزیر دفاع خواجہ آصف، ترکیہ کی طرف سے وزیر دفاع یاسر گولر، قطر کی طرف سے نائب وزیر اعظم و وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبد الرحمن اور انڈونیشیا کی جانب سے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری نے شرکت کی۔ تقریب میں ترکیہ کے دفاعی صنعتی سکریٹریٹ کے سربراہ ہلوک گورگون بھی موجود تھے۔

’بدر‘ معاہدے کے تحت چاروں ممالک دفاعی شعبے میں اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کے باہمی تبادلے کے لیے ایک معاون فریم ورک تیار کریں گے۔ اس کے بنیادی شعبے مندرجہ ذیل ہیں:

دفاعی پیداوار: فوجی ساز و سامان اور دفاعی نظاموں کی تیاری میں تعاون کو وسعت دینا۔ اس میں نئی دفاعی ٹیکنالوجیز اور جدید فوجی نظاموں کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں شامل ہیں۔ تکنیکی فوجی تربیت اور تربیتی پروگراموں کے تبادلے کو فروغ دینا۔ دفاعی صنعتوں کے مابین شراکت داری، مشترکہ پیداوار اور تکنیکی معلومات کے تبادلے کے مواقع تلاش کرنا۔

ترکیہ کی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ معاہدہ چاروں ممالک کی صنعتی صلاحیتوں کو تقویت بخشنے اور مشترکہ سیکورٹی اہداف کے حصول میں مدد فراہم کرے گا۔ تاہم، اب تک کسی مخصوص مشترکہ دفاعی منصوبے، اس کی مالی اعانت یا نفاذ کے لیے طے شدہ مدت کی تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ان کا ملک قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو علاقائی امن اور استحکام کے تئیں چاروں ممالک کے مشترکہ عزم کی علامت قرار دیا۔ وہیں، ترکیہ گزشتہ چند برسوں میں اپنی دفاعی صنعت کو وسعت دینے اور اتحادی ممالک کی فوجی صلاحیتوں کو تقویت دینے پر زور دیتا رہا ہے۔ قطر کے ساتھ اس کے دفاعی روابط پہلے ہی خاصے مضبوط ہیں اور قطر میں ترکیہ کا ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ انڈونیشیا کے ساتھ بھی ترکیہ کے دفاعی صنعت اور فوجی ٹیکنالوجی کے میدان میں قریبی تعلقات ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی پیداوار، فوجی تربیت اور تکنیکی تعاون کو لے کر پہلے سے ہی شراکت داری قائم ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں سیکورٹی چیلنجوں اور علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر متعدد ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ چاروں ممالک کے باہمی تعاون سے دفاعی ٹیکنالوجی، فوجی تربیت اور صنعتی پیداوار کے میدان میں نئے امکانات کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

اگرچہ، ’بدر‘ معاہدے کے حوالے سے فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس کے تحت کس نوعیت کے دفاعی نظاموں کی مشترکہ پیداوار عمل میں لائی جائے گی یا چاروں ممالک کتنی مالی ذمہ داری قبول کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande