ایران کا دوٹوک اعلان، افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل نہیں کیا جائے گا
تہران،21اکتوبر(ہ س)۔ ایران نے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایٹمی مواد ایرانی عوام کا قومی اثاثہ ہے اور اسے ملک کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی ن


ایران 

تہران،21اکتوبر(ہ س)۔

ایران نے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایٹمی مواد ایرانی عوام کا قومی اثاثہ ہے اور اسے ملک کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے یہ موقف پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران پیش کیا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، محسن رضائی نے کہا کہ افزودہ یورینیم کی معمولی سی مقدار بھی ایران سے باہر نہیں بھیجی جائے گی۔ ان کے بقول، یہ مواد ایرانی عوام کے لیے اہم سرمایہ ہے اور اس کے استعمال کا فیصلہ ایران کے اندر ہی کیا جائے گا۔انہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کو اعتماد سازی کے اقدامات سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ جب تک واشنگٹن ایران کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کرتا اور اس کی شرائط پوری نہیں کرتا، بات چیت دوبارہ شروع نہیں ہو سکتی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی نور نیوز کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران ثالثی کی کوششوں اور خطے کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

ایرانی بیان کے مطابق، تہران نے امریکہ کے سامنے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے متعدد شرائط رکھی ہیں۔ ان میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانا اور خطے کے تمام محاذوں پر جنگی کارروائیاں بند کرنا شامل ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ ان مطالبات پر پیش رفت کے بغیر اعتماد کی بحالی مشکل ہے۔

پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی۔ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور آبنائے ہرمز کی صورت حال جیسے معاملات دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی اہم وجوہات بنے ہوئے ہیں۔ تہران نے اپنے تازہ موقف میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے امریکی اقدامات اور ایرانی شرائط پر عمل درآمد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande