
واشنگٹن،21اکتوبر(ہ س)۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹیوں کی انتخابی مہمات پر اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی ارب پتی اور نیویارک کے سابق میئر مائیک بلومبرگ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں ستمبر اور اکتوبر کے دوران 8 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے مجموعی طور پر 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، بلومبرگ کی جانب سے دی گئی مالی مدد کا مقصد آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت بحال کرنے کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔بلومبرگ کے سیاسی مشیر ہاورڈ وولفسن نے اخبار کو بتایا کہ بلومبرگ انتخابی مہمات میں مالی وسائل کو اہم سمجھتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان کے اخراجات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
سی این بی سی کی جانب سے وفاقی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق، نئی مالی امداد کے بعد بلومبرگ 2025-2026 کے انتخابی دور میں ڈیموکریٹک پارٹی کو عطیات دینے والے پانچ بڑے انفرادی عطیہ دہندگان میں شامل ہو گئے ہیں۔وفاقی الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق، نئی رقم کے اعلان سے پہلے بلومبرگ ڈیموکریٹس اور ان سے وابستہ تنظیموں کو تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر عطیہ کر چکے تھے۔ اکتوبر کے آغاز تک انہوں نے نیویارک کی بارہویں انتخابی نشست پر ڈیموکریٹک امیدوار مکا لاسر کی حمایت کرنے والی سپر سیاسی ایکشن کمیٹی کو ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر دیے تھے۔ اس کے علاوہ پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو کی دوبارہ انتخابی مہم کی حمایت کے لیے 25 لاکھ ڈالر بھی مختص کیے تھے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ وہ اور ان سے وابستہ سیاسی کمیٹیاں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں اشتہارات، ووٹروں سے رابطوں، انتخابی جلسوں اور ووٹنگ میں شرکت بڑھانے کی مہمات پر 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکی ہیں۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 3 نومبر کو انتخابات کے دن تک ان کے مجموعی اخراجات 40 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔ تاہم، منگل کی دوپہر تک وفاقی الیکشن کمیشن کے دستیاب ریکارڈ میں ٹرمپ کی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق تقریباً 20 کروڑ ڈالر کے ایسے اخراجات اور اشتہارات کی بکنگ درج تھی جن کی واضح طور پر شناخت کی جا سکتی تھی۔ اس طرح عوامی ریکارڈ میں دستیاب اعداد و شمار اور ٹرمپ کے اعلان کردہ مجموعی اخراجات میں فرق دکھائی دیتا ہے۔
ٹرمپ نے ستمبر میں کہا تھا کہ ان کی سپر سیاسی ایکشن کمیٹی ’میگا اِنک‘ (MAGA Inc.) کے پاس تقریباً ایک ارب ڈالر موجود ہیں اور وہ وسط مدتی انتخابات پر 40 سے 50 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم، اس وقت کمیٹی نے اپنے پاس تقریباً 40 کروڑ 30 لاکھ ڈالر نقد ہونے کی اطلاع دی تھی، جو ٹرمپ کے بتائے گئے ایک ارب ڈالر سے نمایاں طور پر کم تھے۔امریکہ میں یہ مالی سرگرمیاں ایسے وقت میں تیز ہوئی ہیں جب وسط مدتی انتخابات کے لیے سیاسی مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ مختلف عوامی جائزوں کے مطابق، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت کے حصول کی جنگ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ واپسی پر بحث کر رہے ہیں، جبکہ سینیٹ میں اکثریت کے معاملے پر بھی مقابلہ کھلا ہوا ہے۔انتخابی مہمات پر دونوں جماعتوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے اخراجات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امیدواروں کی حمایت، ووٹروں تک رسائی اور انتخابی مہم کو مؤثر بنانے کے لیے مالی وسائل کا کردار مسلسل اہم ہوتا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan