
نئی دہلی، 21 اکتوبر (ہ س)۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان اور لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سمبت پاترا نے کانگریس اور انڈیا اتحاد پر ملک میں افراتفری پھیلا کر جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ’رجیم چینج‘ یعنی اقتدار کی تبدیلی کے نام پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کے بیرونِ ملک دوروں اور اپوزیشن کے بعض رہنماو¿ں کے بیانات کے پیچھے ہندوستان میں اقتدار کی تبدیلی کی حکمت عملی کارفرما ہے۔
پاترا نے کہا کہ ترنگا ملک کی خودمختاری، آزادی اور قومی وقار کی علامت ہے۔ اس کی آڑ میں قانون توڑنے یا افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقتدار کی تبدیلی کا فیصلہ صرف عوام اپنے حقِ رائے دہی کے ذریعے کریں گے۔
سمبت پاترا نے آشو توش رانکا اور سوربھ داس کی عدالتی حراست کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران یہ واضح ہوا کہ انہیں ترنگا لہرانے کی وجہ سے نہیں، بلکہ امن برقرار رکھنے کے لیے دیے گئے بانڈ کی شرائط کی مبینہ خلاف ورزی کے سبب حراست میں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں نے امن برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن رہائی کے چند گھنٹوں بعد ہی ان شرائط کی خلاف ورزی کی۔
پاترا نے عدالت کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کے دوران مظاہرین کی عمر، ان کی تحریک سے وابستگی اور مقاصد کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے۔ انہوں نے عدالت کے اس تبصرے کا ذکر کیا کہ ”لوگ وہی رہتے ہیں، لیکن ان کے مسائل بدل جاتے ہیں“ اور اس تحریک کے پس پردہ مقاصد پر سوال اٹھائے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ مختلف مسائل کو بنیاد بنا کر ایسی تحریک کھڑی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا آخری مقصد ’رجیم چینج‘ یعنی اقتدار کی تبدیلی ہے۔
پاترا نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے مظاہروں کے دوران تشدد، آتش زنی اور لوٹ مار کے خدشات پر تشویش ظاہر کی ہے۔
راہل گاندھی کے بیرونِ ملک دوروں پر سوالات اٹھائے
بی جے پی ترجمان نے راہل گاندھی کے بیرونِ ملک دوروں اور اپوزیشن رہنماو¿ں کے بیانات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی بیرونِ ملک بعض لوگوں سے ملاقات کرکے ہندوستان میں حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ پاترا نے جارج سوروس اور ان کے خاندان سے وابستہ افراد کے ساتھ مبینہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں مزید شواہد بھی پیش کیے جائیں گے۔
پاترا نے وجے دشمی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وقار، اتحاد اور ثقافت کو نقصان پہنچانے والی طاقتوں کے تئیں چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ بیرونِ ملک جا کر ہندوستان کی منتخب حکومت کو ہٹانے اور ملک کے آئینی اداروں کو کمزور کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایسی کوششوں کا جواب جمہوری طریقے سے دے گی۔ عوام کے سامنے حقائق رکھ کر اور ووٹروں کو بیدار کرکے ایسی نظریات کی مخالفت کی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ طاقتیں سڑکوں پر تشدد اور آتش زنی کے ذریعے ہندوستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ بی جے پی ان کوششوں کی جمہوری طریقے سے مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے اتحاد، سالمیت اور آئینی اداروں کا تحفظ کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ ملک میں حکومت بدلنے کا حق صرف ووٹروں کو حاصل ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کو افراتفری کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ