پنجاب اسمبلی میں پرویندر جھوٹا کے قتل کا معاملہ اٹھائیں گے پرتاپ باجوا
چنڈی گڑھ، 21 اکتوبر(ہ س)۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پرتاپ سنگھ باجوا نے کہا ہے کہ وہ مانسا میں منشیات مخالف کارکن پرویندر سنگھ جھوٹا کی موت کا معاملہ 22 اکتوبر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے
پنجاب اسمبلی میں پرویندر جھوٹا کے قتل کا معاملہ اٹھائیں گے پرتاپ باجوا


چنڈی گڑھ، 21 اکتوبر(ہ س)۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پرتاپ سنگھ باجوا نے کہا ہے کہ وہ مانسا میں منشیات مخالف کارکن پرویندر سنگھ جھوٹا کی موت کا معاملہ 22 اکتوبر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے ریاست کے موجودہ حالات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔بدھ کے روز پنجاب کے بھٹنڈہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے باجوا نے کہا کہ جمعرات سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے پرویندر جھوٹا کے قتل کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پنجاب میں امن و قانون کی صورت حال پولیس کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔

باجوا نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)اور عام آدمی پارٹی (عآپ) مل کر سیاسی کھیل کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے دونوں جماعتوں کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست سے منشیات کے خاتمے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں اور اس اہم مسئلے پر صرف سیاست کر رہی ہیں۔

قائد حزب اختلاف نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تقریباً ساڑھے چار برس کے دوران پنجاب میں منشیات کے سبب ہزاروں نوجوانوں کی موت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق، اس صورت حال کی ذمہ داری موجودہ عآپ حکومت کو قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت منشیات کے خاتمے کے بڑے بڑے دعوے کرتی رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر حالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔پرتاپ باجوا نے یہ الزام بھی لگایا کہ پنجاب میں گینگسٹروں کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، گینگسٹروں کو نہ صرف انتخابات میں استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں مزید مضبوط بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جرائم پیشہ عناصر کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث عام لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande