بھنڈارا میں مہاپرساد کھانے سے 300 افراد متاثر، 82 زیر علاج، تمام کی حالت خطرے سے باہر
بھنڈارا، 21 اکتوبر(ہ س)۔ضلع بھنڈارا کے لاکھنی تعلقے کے کھراشی گاؤں میں نوراتری کے موقع پر تقسیم کیے گئے مہاپرساد کے بعد متعدد افراد کوقے اور دست کی شکایت ہوگئی۔ واقعے میں 300 افراد کے متاثرہونے کی اطلاع دی گئی ہے، تاہم خبر میں بدھ کی دوپہر کے بعد 8
Food Poisoning Bhandara 300 Affected


بھنڈارا، 21 اکتوبر(ہ س)۔ضلع بھنڈارا کے لاکھنی تعلقے کے کھراشی گاؤں میں نوراتری کے موقع پر تقسیم کیے گئے مہاپرساد کے بعد متعدد افراد کوقے اور دست کی شکایت ہوگئی۔ واقعے میں 300 افراد کے متاثرہونے کی اطلاع دی گئی ہے، تاہم خبر میں بدھ کی دوپہر کے بعد 82 افراد کے زیر علاج ہونے کی تفصیل موجود ہے۔ ضلع صحت افسر کے مطابق تمام متاثرہ مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ منگل کو جتیندر بوندرے کی رہائش گاہ پرمہاپرساد کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں تقریباً 600 سے 700 شہریوں نے کھانا کھایا۔ اس کے بعد علی الصبح مختلف خاندانوں کے افراد کی طبیعت خراب ہونے لگی اور قے اور دست کی شکایات سامنے آئیں۔ابتدائی طور پر متاثرہ افراد علاج کے لیے پالاندور کے دیہی اسپتال پہنچے۔ صبح ہوتے ہوتے مریضوں کی تعداد بڑھنے سے طبی امداد کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھنڈارا ضلع کے محکمہ صحت کو چوکس کردیا گیا۔ میڈیکل افسر ڈاکٹر ہلمارے، دیہی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ستیش گائیکواڑ، ضلع سرجن ڈاکٹر سندیپ گجبھیے اور ضلع صحت افسر ڈاکٹر کاپسے نے اسپتال اور متاثرہ علاقے کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا۔کھراشی کے سرپنچ یوگیش جھلکے اور مقامی شہریوں نے متاثرین کو فوری طبی مدد دلانے کے لیے اقدامات کیے۔ گرام پنچایت دفتر، ضلع پریشد کے پرائمری اسکول اور صحت ذیلی مرکز کے ذریعے گاؤں ہی میں طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ بدھ کو دوپہر 12 بجے تک پالاندور دیہی اسپتال میں 46 مریض درج ہوئے تھے۔ زیادہ خراب حالت والے 5 مریض مزید علاج کے لیے ضلع جنرل اسپتال منتقل کیے گئے۔ دوپہر کے بعد دستیاب معلومات میں مجموعی طور پر 82 افراد کے زیر علاج ہونے کی اطلاع تھی، جن میں 36 خواتین شامل تھیں۔ محکمہ صحت نے بتایا کہ زیر علاج تمام متاثرین کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande