
لکھنؤ، 21 اکتوبر (ہ س)۔
اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے معروف شیوا شرما قتل معاملے میں ریاستی پولیس اور اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کی ٹیم کو کامیابی ملی ہے۔ ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر ناگپور کی ضلع و سیشن عدالت نے مرکزی ملزمہ شردھا دوبے، اس کی بہن رشمی دوبے اور ڈرائیور دانش کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔
اتر پردیش کے ڈی جی پی راجیو کرشنا نے بدھ کو بتایا کہ 9 اکتوبر کو پیش آئے سنگین واقعے کے اہم ملزمین کو لکھنؤ پولیس اور ایس ٹی ایف کی ٹیم نے ناگپور سے گرفتار کیا ہے۔ آج انہیں ناگپور کی عدالت میں پیش کرکے ٹرانزٹ ریمانڈ کی درخواست دی گئی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ ملزمین کو سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان لکھنؤ لایا جا رہا ہے۔ تمام شواہد کی بنیاد پر ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ جرم میں کسی بھی طرح ملوث شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔
عدالت سے منظوری ملنے کے بعد اتر پردیش پولیس اور ایس ٹی ایف کی ٹیمیں تینوں ملزمان کو سڑک کے راستے لکھنؤ لا رہی ہیں۔ جمعرات کی دوپہر تک انہیں عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان تینوں ملزمین پر 50-50 ہزار روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔
قابلِ ذکر ہے کہ کیفے چلانے والے شیوا شرما کی لاش 9 اکتوبر کو لکھنو¿ کے اودھ گرین اپارٹمنٹ میں ملی تھی۔ یہ فلیٹ شردھا دوبے کا ہے۔ مقتول شیوا کی والدہ رنجنا شرما نے اپنے بیٹے کے قتل کا الزام اس کی لیو اِن پارٹنر شردھا دوبے پر عائد کیا تھا۔
دوسری جانب، شردھا دوبے اپنی بہن اور ڈرائیور کے ساتھ واقعے کے بعد سے ہی فرار تھی۔ اس کے نیپال میں دیکھے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔ معاملہ ہائی پروفائل ہونے کے بعد حضرت گنج کے اے سی پی رجنییش ورما کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جبکہ انسپکٹر کی تبدیلی بھی کی گئی تھی۔ ملزمین کے ممکنہ ٹھکانوں پر اتر پردیش پولیس اور ایس ٹی ایف کی ٹیمیں چھاپے مار رہی تھیں۔ بالآخر انہیں ناگپور سے گرفتار کر لیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ