
یروشلم، 21 اکتوبر (ہ س)۔
اسرائیل نے ترکی کے ساتھ سمندری حدود کے معاہدے کی منظوری دینے کے لیبیا کی مشرقی پارلیمنٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں اس کے قریبی اتحادی ممالک کے خودمختار حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور مشرقی بحیرہ روم میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ترکی کی سرگرمیاں ایک بار پھر مشرقی بحیرہ روم میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ تاہم، یہ اسرائیل کا سرکاری مو¿قف ہے اور معاہدے کے اثرات کے حوالے سے متعلقہ فریقوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔
اس سے قبل یونان نے بھی اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ یورپی یونین نے بھی اس قدم پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ مصر اور قبرص بھی طویل عرصے سے لیبیا اور ترکی کے درمیان سمندری حدود سے متعلق معاہدے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ان ممالک کا خیال ہے کہ اس معاہدے سے مشرقی بحیرہ روم میں ان کے اپنے سمندری دعوو¿ں اور حقوق پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ