
انقرہ،20اکتوبر(ہ س)۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں سے خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کو برادر ملک قرار دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ترکیہ نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔ وزارت نے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔بیان میں کہا گیا کہ شہری بنیادی ڈھانچے اور عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت خارجہ نے علاقائی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیاں فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ترکیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ترکیہ کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔اس سے قبل اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے دعویٰ کیا تھا کہ حوثی ملیشیا نے یکم اکتوبر سے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 20 حملے کیے۔ ان کے مطابق، ان حملوں میں 17 افراد جاں بحق اور 330 سے زائد زخمی ہوئے۔ریاض ایئرپورٹ پر حملوں کے خلاف عرب، اسلامی اور عالمی سطح پر مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف حلقوں نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اقدامات کی حمایت کی ہے۔
مذمت کرنے والوں نے ایئرپورٹ کے مسافروں کے لیے مختص حصوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کو سنگین جرم قرار دیا ہے۔ ان حملوں میں مسافروں اور ایئرپورٹ کے عملے سمیت شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر مختلف حلقوں کی جانب سے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں روکنے اور علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan