
ناگپور، 20 اکتوبر (ہ س)۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک ( سربراہ ) ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارت میں سماجی ہم آہنگی اور آئینی دائرے میں انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی ممکن ہے، لیکن ملک میں افراتفری کے ذریعے نہ کبھی اقتدار کی تبدیلی ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ وہ منگل کو مہاراشٹر کے ناگپور میں ریشم باغ میدان پر آر ایس ایس کے وجے دشمی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ مغربی دنیا کی ترغیب اور بالواسطہ مداخلت کے باعث کئی ممالک میں افراتفری پیدا ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق نیپال، بنگلہ دیش، البانیہ اور فرانس میں نظام کی تبدیلی کے نام پر پرتشدد سرگرمیاں جاری ہیں اور بھارت میں بھی ایسی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مغربی طاقتیں سماجی نظام، ثقافتی اقدار اور انسانی روایات کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ محض حکومت یا اقتدار کی تبدیلی سے مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی تحریک کا مقصد مسئلے کا حل ہونا چاہیے۔ احتجاج کرنے والوں اور امن و امان برقرار رکھنے والی حکومت، دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کے اقدامات سے معاشرے میں غیر ضروری تصادم اور نفرت پیدا نہ ہو۔ سیاسی فائدے، ووٹ حاصل کرنے اور مقبولیت کی خواہش کو عقل و فہم اور خیر سگالی پر غالب نہیں آنا چاہیے۔ شدید جذبات کے باوجود آئین کی حدود اور عوامی زندگی میں تحمل برقرار رکھنا ضروری ہے۔
قومی اتحاد اور وندے ماترم کی اہمیت
قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ بھارت میں مختلف زبانوں، مذاہب، ذاتوں اور روایات کے لوگ رہتے ہیں، لیکن مشترکہ سماجی اور جذباتی شناخت انہیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ آئین کی تمہید میں درج الفاظ ’’ہم بھارت کے لوگ‘‘ اسی اتحاد کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اختلافات کے باوجود باہمی احترام اور ہم آہنگی برقرار رکھنا ضروری ہے۔
وندے ماترم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لارڈ کرزن نے مذہبی بنیاد پر بنگال کی تقسیم کی تھی، جس کے خلاف وندے ماترم اتحاد اور حب الوطنی کی علامت بن کر ابھرا۔ ان کے مطابق اس تحریک کے نتیجے میں انگریزوں کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ تاہم، 1947 میں نفرت کے باعث قومی اتحاد کمزور ہوا اور ملک تقسیم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم آج بھی قومی اتحاد کی علامت ہے اور اسے فخر کے ساتھ گانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔
نشے کی لت اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر تشویش
ڈاکٹر بھاگوت نے نوجوانوں میں منشیات اور نشے کی بڑھتی لت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے حکومت، انتظامیہ اور معاشرے کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے رضاکار بھی نشے کے خلاف ملک گیر بیداری مہم چلانے کی کوشش کریں گے۔
آر ایس ایس کے صد سالہ سال کے دوران کیے گئے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سماجی ہم آہنگی، خاندانی اقدار، ماحولیاتی تحفظ، خود شناسی و سودیشی اور شہری فرائض کی ادائیگی پر زور دیا۔ ان کے مطابق ان اصولوں کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو جھوٹی معلومات پھیلانے یا لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
تقریب میں اہم شخصیات کی شرکت
تقریب کے مہمان خصوصی اور روزنامہ دینک جاگرن کے چیف ایڈیٹر سنجے گپتا نے کہا کہ آر ایس ایس نے ہندو ثقافت، روایات اور طرز زندگی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس آئندہ سو برسوں میں بھی بھارتی ثقافتی اقدار کے فروغ اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کام کرتا رہے گا۔ انہوں نے بی جے پی کے رہنماؤں میں حب الوطنی اور قومی شناخت کے جذبات کو فروغ دینے میں بھی آر ایس ایس کے کردار کو اہم قرار دیا۔
تقریب میں سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، اسرائیل کے قونصل جنرل یانیو ریواچ، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور ریاستی وزیر چندرشیکھر باونکولے سمیت متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔ اس پروگرام کے ساتھ آر ایس ایس کے صد سالہ سال کی تقریبات کا اختتام بھی ہوگیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد