فضائیہ کے طیاروں سے وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات آر ٹی آئی کے تحت عام نہیں کی جا سکتیں: ہائی کورٹ
نئی دہلی، 20 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں سے متعلق ’اسپیشل فلائٹ ریٹرنس‘ کی تفصیلات حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے تحت عام نہیں کی جا سکتیں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ معلو
DELHI-HC-RESTAURANT-OWNER-SEEKS-COMPENSATION


نئی دہلی، 20 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں سے متعلق ’اسپیشل فلائٹ ریٹرنس‘ کی تفصیلات حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے تحت عام نہیں کی جا سکتیں۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ معلومات عام نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس کے سامنے آنے سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا وزیر اعظم کی جان اور جسمانی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ جسٹس امت مہاجن کی بنچ نے کہا کہ صرف حفاظتی اہلکاروں کے نام اور ان کی شناخت سے متعلق معلومات حذف کر دینے سے ریکارڈ عام کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ سلامتی کے خطرات ختم نہیں ہوں گے۔

ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ ہندوستانی فضائیہ کے ایئر ہیڈکوارٹر میں قائم ڈائریکٹوریٹ آف پرسنل سروسز کے مرکزی عوامی اطلاعاتی افسر (سی پی آئی او) کی درخواست پر سماعت کے دوران کیا۔ اس درخواست میں سی پی آئی او کے جولائی 2020 کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں متعلقہ افسر کو ’اسپیشل فلائٹ ریٹرنس‘ کے ریکارڈ کی مصدقہکاپی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande