
امپھال، 20 اکتوبر (ہ س)۔ منی پور کے کانگ پوکپی ضلع میں منگل کی صبح جنگلی بانس کی کونپلیں جمع کرنے گئے 44 سالہ کوکی شہری کو مبینہ طور پر مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد مقامی تنظیموں نے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور علاقے میں عام شہریوں کی سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مہلوک کی شناخت پی مولوڈنگ گاؤں کے رہنے والے پاؤلین منگ تھانگیو کے طور پر ہوئی ہے۔ پی مولوڈنگ گاؤں کی انتظامیہ اور پی مولوڈنگ یوتھ کلب کی جانب سے جاری بیانات کے مطابق، یہ واقعہ منگل کی صبح تقریباً سات بجے پیش آیا۔ تھانگیو اور مولوئی گاؤں کے رہنے والے لالڈینگا روزی روٹی کے لیے جنگل میں جنگلی بانس کی کونپلیں جمع کرنے گئے تھے۔
گاؤں کی انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ حملہ آور این ایس سی این-آئی ایم اور زیڈ یو ایف (کے) سے وابستہ تانگکھول/لیانگمی کاچا ناگا شدت پسند تھے۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
گولی لگنے سے تھانگیو کی موت ہو گئی، جب کہ ان کا ساتھی مبینہ طور پر وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ مہلوک اپنے پیچھے اہلیہ کھولنیئچونگ تھانگیو اور تین بچوں کو چھوڑ گئے ہیں۔
اس واقعے کے بعد لیماکھونگ علاقے میں عام شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ گاؤں کی انتظامیہ نے کھونکھو کوکی گاؤں کے ہیم زانگ ہاؤکپ کے حالیہ اغوا اور قتل کا بھی ذکر کیا اور اسے کوکی-جو برادری کے شہریوں کے خلاف تشدد کا ایک اور واقعہ قرار دیا۔
گاؤں کی انتظامیہ نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل پرتشدد واقعات کے باعث مقامی لوگوں میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ جنگل سے حاصل ہونے والی پیداوار پر انحصار کرنے والے افراد کے لیے ایسے حالات میں روزی روٹی کمانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تنظیم نے مرکزی اور منی پور حکومتوں کے ساتھ متعلقہ سکیورٹی ایجنسیوں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، قصورواروں کی شناخت کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جائے۔ اس کے علاوہ لیماکھونگ اور آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔
پی مولوڈنگ یوتھ کلب نے بھی قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے زندگی، سلامتی اور انسانی وقار کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ تحمل سے کام لیں اور تشدد و دھمکیوں سے گریز کریں۔
دونوں تنظیموں نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کو کسی خوف کے بغیر اپنی روزی روٹی کمانے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے علاقے میں مزید تشدد اور جانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد