دموہ میں خاتون نے تینوں بچوں کو کنوئیں میں دھکیلنے کے بعد خود بھی چھلانگ لگائی، ماں اور دو بچوں کی موت، 5 سالہ بیٹی بچ گئی
دموہ میں خاتون نے تینوں بچوں کو کنوئیں میں دھکیلنے کے بعد خود بھی چھلانگ لگائی، ماں اور دو بچوں کی موت، 5 سالہ بیٹی بچ گئی دموہ، 20 اکتوبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دموہ ضلع کے جمونیا گاوں میں منگل کی علی الصبح ایک خاتون اور اس کے دو بچوں کی کنوئیں می
پانچ سالہ بیٹی کو گاوں والوں نے بحفاظت باہر نکال لیا


دموہ میں خاتون نے تینوں بچوں کو کنوئیں میں دھکیلنے کے بعد خود بھی چھلانگ لگائی، ماں اور دو بچوں کی موت، 5 سالہ بیٹی بچ گئی

دموہ، 20 اکتوبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دموہ ضلع کے جمونیا گاوں میں منگل کی علی الصبح ایک خاتون اور اس کے دو بچوں کی کنوئیں میں ڈوبنے سے موت ہو گئی، جبکہ اس کی پانچ سالہ بیٹی کو گاوں کے لوگوں نے بحفاظت باہر نکال لیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، خاتون نے پہلے اپنے تینوں بچوں کو کنوئیں میں دھکیلا اور پھر خود بھی اس میں کود گئی۔ زندہ بچ جانے والی بچی آروشی نے گاوں والوں کو بتایا کہ اس کی ماں نے پہلے بچوں کو کنوئیں میں دھکیلا تھا۔ تاہم، واقعے کے پیچھے کی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔

واقعہ منگل کی علی الصبح کا ہے۔ پربھات پھیری کے لیے نکلے گاوں والوں نے کنوئیں سے بچی کے چیخنے کی آواز سنی۔ آواز سن کر وہ جائے وقوعہ پر پہنچے اور کنوئیں میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی۔ گاوں کے لوگوں نے خاتون اور تینوں بچوں کو باہر نکال کر پتھریا ہیلتھ سینٹر پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے خاتون منجو (28)، اس کی چار سالہ بیٹی انو اور تین سالہ بیٹے انوج کو مردہ قرار دے دیا۔ پانچ سالہ آروشی کی جان بچ گئی۔

منجو کے شوہر نیت رام عرف نظام سنگھ گوڑ نے بتایا کہ صبح تقریباً پانچ بجے گاوں کی کچھ خواتین ان کے گھر پہنچیں اور اہلیہ و بچوں کے کنوئیں میں ہونے کی اطلاع دی۔ اس کے بعد وہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ان کے مطابق، کنوئیں میں دو بچوں کی لاشیں پانی پر تیرتی ہوئی نظر آئیں۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی گاوں میں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔

متوفیہ کا شوہر نیت رام مزدوری کرتا ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اس کے اور منجو کے درمیان کسی قسم کا تنازعہ نہیں تھا۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ منجو نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔ منجو کی ساس انوپ رانی نے بھی واقعے کی وجوہات کے علم سے انکار کیا ہے۔

وہیں دوسری جانب منجو کی والدہ اوما رانی نے اپنے داماد پر شراب پی کر بیٹی کے ساتھ مار پیٹ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی بیٹی کی پیدائش کے وقت منجو میکے میں رہ رہی تھی۔ تقریباً ایک سال بعد نیت رام اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ اس وقت اس نے شراب نہ پینے اور مار پیٹ نہ کرنے کا یقین دلایا تھا۔ اوما رانی نے یہ الزام بھی لگایا کہ بیٹی اور بچوں کی موت کے بعد سسرال والوں نے انہیں واقعے کی اطلاع نہیں دی۔ انہیں دوسرے گاوں کے ایک شخص کے ذریعے اس کی جانکاری ملی۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پولیس معاملے کے تمام پہلووں کی جانچ کر رہی ہے۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پتھریا تھانہ انچارج مہیندر جگیت ہیلتھ سینٹر پہنچے۔ پولیس نے تینوں متوفیان کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج کر مرگ درج کر لیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا۔ پولیس اہل خانہ کے بیانات اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر تفتیش کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande