
واشنگٹن،19اکتوبر(ہ س)۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری جنگ سے نمٹنے کے دوران امریکی انتظامیہ اور فوجی حکمتِ عملی میں کئی خامیوں اور غلطیوں کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض فوجی فیصلوں میں ایسی کوتاہیاں سامنے آئیں جن سے سبق سیکھتے ہوئے اصلاحی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ایک امریکی نیوز چینل کے خصوصی عوامی پروگرام میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے وینس نے جنگ کے دوران ہونے والے جانی اور معاشی نقصانات، فوجی تنصیبات کی سیکورٹی اور امریکی فوجیوں کے تحفظ سے متعلق امور پر اظہارِ خیال کیا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکی فوجی تنصیبات کی حفاظت کے معاملے میں خامیاں موجود تھیں۔ وینس کے مطابق بعض اوقات اہم معلومات ان تک نہیں پہنچ پاتیں، تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ہر ناکامی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔امریکی نائب صدر نے اعتراف کیا کہ فوجیوں کی تعیناتی کے طریق? کار نے فوجی حکمتِ عملی کی بعض کمزوریوں کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مقامات پر امریکی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ درست ثابت نہیں ہوا اور بعد میں یہ محسوس کیا گیا کہ وہاں تعیناتی ایک بڑی غلطی تھی۔وینس کے مطابق ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور فوجی تعیناتی کے طریقوں میں ضروری تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔
جے ڈی وینس نے کم قیمت ڈرونز کو امریکی فوج کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر فوجی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اپنے اہلکاروں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے اور مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
پروگرام کے دوران جب وینس سے سوال کیا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابتدا میں ظاہر کی گئی توقعات کے باوجود امریکا اب تک فیصلہ کن فتح کیوں حاصل نہیں کر سکا، تو انہوں نے امریکی کارروائیوں کے بعض پہلوؤں کو کامیاب قرار دیا۔
تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جنگ کا حتمی نتیجہ ایران کے اقدامات پر منحصر ہے اور اس معاملے میں مخالف فریق کے فیصلوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وینس نے امریکی حکومت کی حکمتِ عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران سے ایسی ٹھوس اور قابلِ اعتماد ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال نہیں کرے گا۔ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو ایران جنگ کے دوران فوجی سیکیورٹی، اہلکاروں کی تعیناتی اور ڈرون حملوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ جنگ کے حتمی نتائج اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق صورتِ حال اب بھی اہمیت رکھتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan