وزیر منجندر سنگھ سرسا نے این ڈی ایم سی علاقے میں آلودگی پر قابو پانے کے انتظامات کا جائزہ لیا
نئی دہلی، 19 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی کے وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سرسا نے پیر کو نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کے علاقے میں آلودگی پر قابو پانے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔ ضابطوں کے مطابق، 3,000 مربع میٹر سے زیا
SIRSA-POLLUTION-CONTROL-NDMC


نئی دہلی، 19 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی کے وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سرسا نے پیر کو نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کے علاقے میں آلودگی پر قابو پانے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔ ضابطوں کے مطابق، 3,000 مربع میٹر سے زیادہ رقبے والی تعمیراتی جگہوں اور بلند عمارتوں کے منصوبوں میں اینٹی اسموگ گن یا واٹر مسٹ سسٹم لگانا لازمی ہے، تاکہ دھول کو موقع پر ہی قابو کیا جاسکے۔

وزیر سرسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابقہ عام آدمی پارٹی حکومت کو دہلی میں آلودگی کے مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ حکومت نے 11 برس تک صرف اشتہارات کی سیاست کی اور اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالتی رہی، جس کے باعث عوام کو زہریلی ہوا میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں اب بہانے بنانے کا دور ختم ہوچکا ہے اور ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں۔ مسلسل معائنے، ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے ذریعے دہلی کی ہوا کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

سرسا نے کہا کہ دہلی کو صاف ہوا ملنے تک یہ کوشش جاری رہے گی۔ قابل ذکر ہے کہ 17 اکتوبر تک دہلی میں اچھی، اطمینان بخش اور درمیانی درجے کی فضائی آلودگی والے مجموعی طور پر 211 دن ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ کووڈ 19 سے متاثرہ سال 2020 کو چھوڑ دیا جائے تو 2016 سے اب تک دہلی کی یہ بہترین کارکردگی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande