روس، امریکہ اور چین کے درمیان سہ فریقی اجلاس کے امکان کو تینوں ممالک نے تسلیم کیا: دمتری پیسکوف
ماسکو، 19 اکتوبر(ہ س)۔ روس، امریکہ اور چین نے سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے کے امکان کو اصولی طور پر تسلیم کرلیا ہے، تاہم اس اجلاس کی تاریخ، مقام اور ایجنڈے کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ یہ بات کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے
روس، امریکہ اور چین کے درمیان سہ فریقی اجلاس کے امکان کو تینوں ممالک نے تسلیم کیا: دمتری پیسکوف


ماسکو، 19 اکتوبر(ہ س)۔

روس، امریکہ اور چین نے سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے کے امکان کو اصولی طور پر تسلیم کرلیا ہے، تاہم اس اجلاس کی تاریخ، مقام اور ایجنڈے کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ یہ بات کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے امریکی اخبار ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔پیسکوف کے مطابق، تینوں ممالک اس نوعیت کی ملاقات کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اجلاس کب ہوگا اور اس میں کن امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، اس بارے میں ابھی کوئی واضح سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الحال سہ فریقی اجلاس کے انعقاد یا اس کے ممکنہ ایجنڈے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

پیسکوف نے اکتوبر کے آغاز میں بھی کہا تھا کہ ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اے پی ای سی) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی سہ فریقی ملاقات انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ سربراہی اجلاس 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزن میں منعقد ہونے والا ہے۔

تازہ رپورٹوں کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ مجوزہ ملاقات میں یوکرین جنگ کے خاتمے پر تبادلہ خیال کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ تاہم، امریکی صدر کی جانب سے اس ملاقات میں شرکت کی منظوری ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ چین کی رضامندی بھی حتمی طور پر سامنے نہیں آئی، اس لیے اجلاس کے انعقاد کو فی الحال طے شدہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande