
ارریہ، 19 اکتوبر(ہ س)۔ جن سوراج کے بانی اور بانکی پور کے رکن اسمبلی پرشانت کشور نے ارریہ کے ایک نجی ہوٹل میں کوسی گریجویٹ حلقے کے ووٹروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس دوران انہوں نے گزشتہ 25 برسوں سے اقتدار میں رہنے والے بی جے پی امیدوار کو شکست دینے اور جن سوراج کے امیدوار رجنیش رنجن کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔پرشانت کشور نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے امیدوار گزشتہ 25 برسوں سے گریجویٹ حلقے کا انتخاب دھاندلی کے ذریعے جیتتے رہے ہیں، لیکن اس مرتبہ ووٹر گریجویٹوں اور اساتذہ کے حقوق کے لیے ووٹ دیں گے۔ انہوں نے ساتویں پے کمیشن کو نافذ کرانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جن سوراج کے امیدوار رجنیش رنجن کامیاب ہوتے ہیں تو سیمانچل کے 10 ہزار تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو نجی شعبے میں ملازمت دلائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ انتخاب میں ہار جیت الگ بات ہے، لیکن اے آئی ایم آئی ایم سیمانچل اور بہار کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ حیدرآباد یا گجرات سے آنے والے لوگ بہار اور سیمانچل کی قسمت نہیں بدل سکتے، بلکہ یہاں کے عوام ہی اپنے علاقے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہیں گجرات کی فکر ہے، اس کا ایک پیسہ بھی بہار کی فکر پر خرچ نہیں کیا گیا۔
الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جاری احتجاج پر پرشانت کشور نے کہا کہ جب ملک کے آئینی ادارے ایمانداری سے کام نہیں کریں گے تو عوام سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہوں گے۔ آج دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج ہو رہا ہے، کل یہ مظاہرے پورے ملک میں پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سے 10 برسوں کے دوران الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
انہوں نے ایس آئی آر کے نام پر ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کرنے، فارم 6 اور 7 میں تبدیلیوں، انتخابی تاریخوں کے تعین، ضابطۂ اخلاق کے نفاذ، مبصرین کی تقرری اور ووٹوں کی گنتی میں مبینہ دھاندلی جیسے معاملات پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ پہلی مرتبہ ایم ایل سی کا انتخاب اتوار کے بجائے جمعہ کو کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے کے پیچھے یہ مقصد ہو سکتا ہے کہ جمعہ کی نماز کی وجہ سے مسلم ووٹر ووٹ ڈالنے سے محروم رہ جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانکی پور میں انتخابی عمل 30 دن کے بجائے 28 دن میں مکمل کر دیا گیا۔گزشتہ اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے 20 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرکے لوگوں کو 10،10 ہزار روپے دیے اور ووٹ خریدنے کی کوشش کی، لیکن الیکشن کمیشن نے اس معاملے میں کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan