
کٹھمنڈو، 19 اکتوبر (ہ س)۔ نیپال نے شعبۂ چشم کے علاج میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس شعبے میں نیپال کو بین الاقوامی برادری سے ملنے والے اعتماد نے ملک کو معیاری اور قابلِ رسائی طبی خدمات کے ایک پُرکشش مرکز کے طور پر قائم کرنے کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ نیپال نیتر جیوتی سنگھ کے تحت چلنے والے آنکھوں کے اسپتال نہ صرف بھارتی شہریوں کو علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، بلکہ مختلف ممالک میں مفت آنکھوں کے علاج کے کیمپ بھی منعقد کر رہے ہیں۔
نیپال نیتر جیوتی سنگھ کے نیٹ ورک میں 28 آنکھوں کے اسپتال اور 226 مراکزِ علاج شامل ہیں۔ ان اسپتالوں اور مراکز کی بہتر خدمات کے باعث اب آنکھوں کے علاج کے لیے کاٹھمنڈو یا سرحد پار دوسرے ممالک جانے کی مجبوری بتدریج کم ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس، اب بھارت سے مریض آنکھوں کا علاج کرانے کے لیے نیپال آنے لگے ہیں۔ نیپال کے آنکھوں کے اسپتال ان کے لیے بینائی محفوظ رکھنے کے قابلِ اعتماد مراکز بنتے جا رہے ہیں۔
نیپالی ماہرینِ چشم کی مہارت، جدید آلات اور معیاری خدمات سے سنگھ سے وابستہ اسپتالوں اور مراکز میں بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے۔ اسی اعتماد کے نتیجے میں نیپال کے شعبۂ چشم میں نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اب نیپال میں آنکھوں کے علاج کی خدمات ملک کی معیشت میں بھی اپنا کردار ادا کرنے لگی ہیں۔
نیپال نیتر جیوتی سنگھ کے چیف فنانس آفیسر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ دیوراج پنت نے بتایا کہ بھارتی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ملک میں غیر ملکی زرِمبادلہ کی آمد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپال کے اسپتالوں میں علاج کرانے کے لیے آنے والے بھارتی مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی نے اس شعبے میں نئے معاشی امکانات کو اجاگر کیا ہے۔
ان کے مطابق، نیپال نیتر جیوتی سنگھ کے نیٹ ورک میں شامل اسپتالوں اور مراکزِ علاج نے مالی سال 2025-26 کے دوران بھارتی مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرکے 150 کروڑ روپے سے زیادہ کا غیر ملکی زرِمبادلہ حاصل کیا ہے۔
پنت نے کہا کہ یہ محض ایک معاشی اعداد و شمار نہیں، بلکہ بین الاقوامی سطح پر نیپال کی طبی خدمات کے تئیں بڑھتے ہوئے اعتماد کا بھی ثبوت ہے۔ معیاری علاجِ چشم کے ذریعے غیر ملکی زرِمبادلہ حاصل کرنا اس شعبے میں وسیع امکانات کے دروازے کھولتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی مریضوں سے ہونے والی آمدنی نیپال میں شعبۂ چشم کی معاشی صلاحیت کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔
نیپال میں آنکھوں کا علاج کرانے کے لیے آنے والے مریضوں میں بھارتی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور دیگر ممالک کے شہری بھی نیپالی آنکھوں کے اسپتالوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔
کسی مریض کے اہلِ خانہ کے لیے علاج کی غرض سے دوسرے ملک جانے کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ علاج کا معیار، ڈاکٹروں پر اعتماد، اخراجات، اسپتال تک رسائی، علاج کے لیے انتظار کی مدت، سابقہ تجربات اور مالی حالات جیسے کئی عوامل اس فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
نیپال نیتر جیوتی سنگھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شلیش کمار مشرا کے مطابق، مالی سال 26-2025 تک سنگھ سے وابستہ اسپتالوں اور مراکزِ علاج نے نیپالی اور بھارتی شہریوں سمیت مجموعی طور پر 5 کروڑ 2 لاکھ 489 مریضوں کو آنکھوں کے علاج کی خدمات فراہم کی ہیں۔ اسی مدت تک 56 لاکھ 59 ہزار 624 افراد کی آنکھوں کی سرجری کی جا چکی ہے۔
ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ تجربہ کار ماہرینِ چشم، جدید ٹیکنالوجی اور آلات، سرجری کے بہتر نتائج، مریضوں کے ساتھ اچھا برتاؤ، نسبتاً کم انتظار اور قابلِ برداشت علاج کے اخراجات کے باعث نیپال میں آنکھوں کے علاج کی خدمات کا معیار بہتر ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی علاقوں سمیت مختلف ممالک کے مریض نیپالی اسپتالوں میں علاج کرانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
غیر ملکی مریضوں سے حاصل ہونے والا معاشی فائدہ صرف اسپتالوں میں جمع ہونے والی علاج کی فیس تک محدود نہیں ہے۔ مریض ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، کھانے پینے، ادویات اور مقامی بازاروں میں بھی رقم خرچ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ آنے والے اہلِ خانہ اور معاونین کے اخراجات سے بھی مختلف کاروباری شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔
اس کے علاوہ، بعض مریض علاج کے ساتھ نیپال کے مذہبی اور سیاحتی مقامات کی سیر بھی کرتے ہیں۔ اس سے اسپتالوں کے علاوہ ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، سیاحت اور دیگر شعبوں میں روزگار اور کاروبار کے مواقع بڑھنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
اس طرح نیپال میں آنکھوں کے علاج کی خدمات میں توسیع نہ صرف لوگوں کی بینائی محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے، بلکہ طبی سیاحت کے ذریعے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کا موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد