
نئی دہلی، 19 اکتوبر (ہ س)۔
بیرونِ ملک زیرِ تعلیم رہنے والے اور تعلیم حاصل کر چکے ہندوستانی نژاد 400 سے زائد طلبہ، محققین اور ماہرینِ تعلیم نے ’بھارت کو انتشار سے بچائیں‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
بیان پر دستخط کرنے والوں نے انتخابی نتائج پر مسلسل سوال اٹھانے، عدالتوں کے فیصلے پسند نہ آنے پر عدلیہ پر تبصرے کرنے اور فوج کو سیاسی بحث میں گھسیٹنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اس کا اظہار صرف آئینی طریقوں، یعنی بحث، مباحثے اور مکالمے کے ذریعے ہی کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جمہوری اداروں پر اپنا اعتماد برقرار رکھیں۔
یہ بیان چار براعظموں کے 27 ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد نے جاری کیا ہے۔ ان میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی، فرانس، روس، جاپان، سنگاپور اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں مقیم ہندوستانی نژاد افراد شامل ہیں۔
بیان پر دستخط کرنے والوں کا تعلق ایم آئی ٹی، آکسفورڈ، کیمبرج، پرنسٹن، ہارورڈ، ییل، اسٹینفورڈ اور کولمبیا جیسی معروف یونیورسٹیوں سے رہا ہے۔ تاہم، بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ان افراد کی ذاتی رائے ہے، نہ کہ متعلقہ یونیورسٹیوں کا موقف۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آزادی کے بعد گزشتہ 70 برسوں کے دوران ہندوستانی جمہوریت مضبوط ہوئی ہے۔ آئینی اداروں نے ترقی کی ہے اور اقتدار کی پ±رامن منتقلی اس جمہوریت کی نمایاں پہچان رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ