
نئی دہلی، 19 اکتوبر (ہ س)۔
جنتر منتر پر احتجاج کے معاملے میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے دو رہنماؤں کی عدالتی تحویل میں مزید دو دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) نے سورَو داس اور آشو توش رانکا کی عدالتی تحویل میں توسیع کا حکم دیا۔
سی جے پی کے دونوں رہنما 14 اکتوبر سے جیل میں ہیں۔ پیر کے روز دہلی پولیس نے دونوں کو ایس ای ایم کی عدالت میں پیش کیا اور ان کی عدالتی تحویل میں پانچ دن کی توسیع کی درخواست کی۔ تاہم، عدالت نے دونوں کی عدالتی تحویل میں صرف دو دن کی توسیع کا حکم دیا۔
دراصل، دہلی پولیس نے سی جے پی کے 14 ارکان کے خلاف دو الگ الگ تھانوں میں ایف آئی آر درج کی ہیں۔ اس معاملے میں کناٹ پلیس اور پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشنوں میں دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق، 13 اکتوبر 2026 کو سی جے پی کے یہ ارکان ممنوعہ احتجاجی مقام جنتر منتر پر نجی احاطے کے راستے پہنچے اور پولیس اہلکاروں کی سرکاری کارروائی میں رکاوٹ ڈالی۔ دہلی پولیس نے سورَو داس، آشو توش رانکا اور اجنکیا شندے کے خلاف احتیاطی کارروائی کی ہے۔
تینوں کو اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد سورَو داس اور آشو توش رانکا کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا، جبکہ اجنکیا شندے کو چھ ماہ تک امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 5,000 روپے کے مچلکے پر پابند کیا گیا۔
واضح رہے کہ دہلی پولیس نے جنتر منتر کو سرکاری احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب وہاں کوئی احتجاج نہیں کیا جا سکتا۔ سی جے پی کے رہنماو¿ں نے اسی فیصلے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ