
اوٹاوا (کینیڈا)، 19 اکتوبر(ہ س)۔ کینیڈا کے صوبے البرٹا میں واقع فوجی اڈے کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ میں ہفتے کے روز آگ لگنے سے چار فوجیوں کی موت ہوگئی، جبکہ متعدد دیگر افراد جھلس کر زخمی ہوگئے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اتوار کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت سنگین ہے۔ انہوں نے واقعے کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے 39 افراد اب بھی اسپتال میں داخل ہیں، جن میں کم از کم 19 کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ سے البرٹا کے چار مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، حادثے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت سارجنٹ مورگن وونگ، شان فیرل، ایڈن گولڈنگ اور ہیڈن لائیکے مارک کے طور پر کی گئی ہے۔
کینیڈا کے وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے شدید دکھ ہو رہا ہے کہ فوجی اڈے پر پیش آنے والے ایک واقعے میں کچھ لوگوں کی موت ہوگئی ہے اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘‘
پہلی کینیڈین ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل ویڈ رٹلینڈ نے اتوار کو بتایا کہ تربیتی مشق کے دوران گھاس میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ آگ لگنے کی ابتدائی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ حکام واقعے کی وجوہات اور اس کے حالات کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan