
کٹھمنڈو، 18 اکتوبر( ہ س) : نیپال کے ضلع رسوا میں 26 اگست کو بھوٹے کوشی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے رسوا، دھادنگ اور نوواکوٹ سمیت کئی اضلاع میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ حکومت کی ابتدائی جائزہ رپورٹ کے مطابق، سیلاب سے ہونے والے نقصان کی تلافی اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے 7 کھرب 23 ارب نیپالی روپے درکار ہوں گے۔ اس کے باوجود امداد اور تعمیرِ نو کے لیے جمع کی گئی بڑی رقم اب تک خرچ نہیں کی جا سکی ہے۔
حکومت نے وزیر اعظم کے قدرتی آفات امدادی فنڈ میں تقریباً 17 ارب 75 کروڑ روپے جمع کیے ہیں، لیکن سیلاب کے تقریباً دو ماہ بعد بھی یہ رقم استعمال نہیں ہوئی۔ قومی آفات رسک میں کمی اور مینجمنٹ اتھارٹی فی الحال مرکزی آفات مینجمنٹ فنڈ سے امدادی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق، مرکزی فنڈ میں دستیاب تقریباً چار ارب روپے میں سے اب تک صرف 37 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
اس رقم میں سے رسوا، نوواکوٹ اور دھادنگ کے ضلعی آفات مینجمنٹ فنڈز کو مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔ سیلاب سے متاثرہ 15 مقامی اداروں کے انتظامات کے لیے 13 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ اس کے علاوہ نیپالی فوج کو 9 کروڑ، نیپال پولیس کو 6 کروڑ اور مسلح پولیس فورس کو 6 کروڑ روپے بچاؤ اور انتظامی سرگرمیوں کے لیے دیے گئے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اضافی رقم کی مانگ اضلاع سے موصول ہونے پر ہی مزید فنڈ جاری کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے کے انتظامات مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم کے امدادی فنڈ کی رقم استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ تاہم، امدادی کاموں کی رفتار اور دستیاب رقم کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سیلاب میں لاپتا ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے جاں بحق افراد کی آخری رسومات کے لیے فی کس دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن لاپتا افراد کو قانونی طور پر مردہ قرار دینے کے عمل میں تاخیر کے باعث بہت سے خاندان امدادی رقم سے محروم ہیں۔ بیشتر خاندان روایتی رسومات بھی مکمل کر چکے ہیں۔ حکام کے مطابق، قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد معاوضے کی تقسیم کی جا سکے گی۔
بچاؤ مہم میں استعمال ہونے والے نجی ہیلی کاپٹروں کے لیے 12 سے 13 کروڑ روپے کے بل بھی موصول ہوئے ہیں، لیکن تمام اخراجات کی تفصیلات جمع نہ ہونے کے باعث حتمی رقم طے نہیں ہوئی۔
سیلاب نے سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بیلی پل نصب کرنے، بند سڑکیں کھولنے اور متبادل راستے بنانے کا کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کے اخراجات متعلقہ سرکاری اداروں کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔
قومی منصوبہ بندی کمیشن کے نائب صدر ڈاکٹر گنکر بھٹ کے مطابق، ابتدائی جائزہ رپورٹ تیار ہو چکی ہے، جبکہ نقصان کی تفصیلی معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کا عمل جاری ہے۔
مجموعی طور پر، نیپال کو امداد، معاوضے اور تعمیرِ نو کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہیں۔ دستیاب امدادی رقم اور تخمینہ شدہ اخراجات کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ فنڈز کے استعمال میں تاخیر، لاپتا افراد کے قانونی معاملات اور تعمیرِ نو کی سست رفتار متاثرہ خاندانوں کی مشکلات بڑھا رہی ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ امدادی رقم کی بروقت تقسیم، شفاف مالی انتظام اور تعمیرِ نو کے کاموں کو تیز کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد