جھارکھنڈ ہائی کورٹ کی سختی کے بعد بوکارو اسٹیل پلانٹ کے گیٹ کھلے، پیداوار بحال کرنے کی ہدایت
رانچی، 18 اکتوبر (ہ س)۔ بوکارو اسٹیل پلانٹ (بی ایس ایل) کے تمام داخلی دروازوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جانے اور پلانٹ کی پیداوار ٹھپ ہونے کے معاملے میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اتوار کو معاملے کی سنگینی کے پیش نظر عدال
جھارکھنڈ ہائی کورٹ کی سختی کے بعد بوکارو اسٹیل پلانٹ کے گیٹ کھلے، پیداوار بحال کرنے کی ہدایت


رانچی، 18 اکتوبر (ہ س)۔

بوکارو اسٹیل پلانٹ (بی ایس ایل) کے تمام داخلی دروازوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جانے اور پلانٹ کی پیداوار ٹھپ ہونے کے معاملے میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اتوار کو معاملے کی سنگینی کے پیش نظر عدالت نے خصوصی سماعت کرتے ہوئے بوکارو کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو تمام گیٹ فوری طور پر کھلوانے اور ملازمین کی آمد و رفت کے ساتھ کام کاج کو بلا رکاوٹ یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ کی سختی کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور اتوار کو صورت حال پر قابو پالیا گیا۔

جسٹس سوجیت نارائن پرساد کی عدالت نے پورے واقعے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بوکارو کے ڈپٹی کمشنر سے جواب طلب کیا۔ سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں حاضر ہوئے۔ عدالت نے انہیں پلانٹ کے تمام داخلی دروازے کھلوانے اور کام کاج معمول کے مطابق جاری رکھنے کے لیے فوری ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔

اس معاملے میں اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ (سیل) کی جانب سے وکیل اندر جیت سنہا نے عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کیا۔ معاملے کی اگلی سماعت 28 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔

دراصل، بے گھر کیے گئے افراد کی اپرنٹس یونین اپنی مختلف مانگوں، خصوصاً ملازمت فراہم کرنے کے مطالبے کو لے کر گزشتہ آٹھ دنوں سے بھوک ہڑتال کر رہی تھی۔ ہفتے کے روز احتجاج نے سنگین صورت اختیار کرلی، جب مظاہرین نے بی ایس ایل کے مرکزی دروازے سمیت تمام اہم داخلی راستوں کو جام کردیا۔

داخلی دروازوں پر مظاہرین کے پہرے کی وجہ سے مستقل اور ٹھیکے پر کام کرنے والے ملازمین کو پلانٹ کے اندر جانے سے روکا جا رہا تھا۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 3 ہزار ملازمین پلانٹ کے اندر پھنس گئے تھے۔

پلانٹ کے تمام اہم داخلی دروازے بند ہونے سے ملازمین کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ پلانٹ کے اندر اور باہر کی سرگرمیاں، پیداوار اور سامان کی نقل و حمل بھی مکمل طور پر ٹھپ ہوگئی تھی۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے اتوار کو خصوصی سماعت کرکے انتظامیہ کو فوری مداخلت کی ہدایت دی۔ عدالت کے حکم کے بعد انتظامیہ نے صورت حال کو قابو میں لانے کے لیے کارروائی کی۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 28 اکتوبر کو ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande