
سرسید احمد خاں کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، شعری نشست میں شعرائ نے اپنا کلام پیش کیادھام پور،18اکتوبر(ہ س)۔ سرسید احمد خاں کے یومِ پیدائش کے موقع پر 17 اکتوبر بروز سنیچر بعد نمازِ عشائ حیدر علی آڑھتی کی رہائش گاہ، واقع محلہ بندوقچیان میں جشنِ سرسید کی تقریب اور شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت بزمِ قمر دھام پور کے صدر قاری نوشاد عالم 'شاد' علیگ نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض ارشاد دھام پوری نے انجام دیے۔حاجی حسن خان اور حکیم افتخار حسین زیدی مہمانانِ خصوصی اور ڈاکٹر اظہر انصاری و خمار دہلوی مہمانانِ ذی وقار کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ تقریب کا اہتمام حیدر علی آڑھتی نے کیا۔
تقریب میں حاجی حسن خان اور حیدر علی آڑھتی نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے پروگرام کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد خمار دہلوی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ پاک پیش کرکے محفل کا آغاز کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاری راشد حمیدی، ماسٹر شمشیر علی شمس اور حکیم افتخار حسین زیدی نے سرسید احمد خاں کی حیات و خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ سرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیمی پسماندگی سے نکالنے اور جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے مشن کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تعلیم کے میدان میں مزید پیش رفت اور نئی نسل کو علم و شعور سے آراستہ کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر منعقدہ شعری نشست میں شعرائ نے اپنے کلام پیش کرکے سامعین سے بھرپور داد و تحسین حاصل کی۔
قاری نوشاد عالمؔ شاد علیگ نے قومی زوال کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا:
مرے ذہنِ مضطرب میں یہ سوال ہے تو کیوں ہے
مری قوم پر مسلسل یہ زوال ہے تو کیوں ہے
خمار دہلوی نے معاشرتی صورتِ حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:
روز غیرت کا جنازہ نہیں دیکھا جاتا
زندگی اب یہ تماشا نہیں دیکھا جاتا
ارشاد دھام پوری نے خود احتسابی کے موضوع پر کہا:
انگلی اٹھا رہا تھا جو اوروں کے عیب پر
اب چپ ہے جب سے آئینہ اس کو دکھا دیا
قاری راشد حمیدی نے کہا:
علم وہ خزانہ ہے جس نے بھی اسے چھوڑا
زیر ہی وہ رہتا ہے، وہ زبر نہیں ہوتا
شہزاد عالمؔ شہزاد دھام پوری نے معاشرتی رشتوں میں کم ہوتی ہوئی خلوص و محبت کی عکاسی کرتے ہوئے کہا:
رشتوں میں اب خلوص ہی باقی نہیں رہا
یوں پھوٹ پڑ رہی ہے بھرے خاندان میں
ہاشم قریشی نے وقت کی ناپائیداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
سوچ انجام اپنا بشر، وقت یوں ہی گزر جائے گا
چڑھتا سورج ہے کچھ دیر کا، دھیرے دھیرے اتر جائے گا
شمشیر علی شمس نے کہا:
بھلا یہ کون ہے جو شمس مجھ کو روک دیتا ہے
کوئی بھی کام مجھ سے وقت پر ہونے نہیں دیتا
محمد قمر صدیقی نے کہا:
اترا ہوا ہر ایک کے چہرے سے ہے نقاب
انسانیت کا عزمِ سفر دیکھنے کی چیز
ویریندر 'بیتاب ' نے کہا
رشتے ناطوں کا پاس رہنے دے
ان میں کچھ تو مٹھاس رہنے دے
مہمانِ خصوصی حاجی حسن خاں نے اپنا کلام اخری خط مرے محبوب نے لکھا ہے مجھے جب اپنی مترنم آواز میں سنایا تو محفل سے واہ واہ کی صدائیں بلند ہونے لگیں ۔ قاری نوشاد عالم شاد صاحب نے سرسید کی حیات و خدمات کو نظم کی شکل میں پیش کیا جس کو سامعین نے بہت پسند کیا۔شفقت بھارتی شیرکوٹی اور ریاض اکبر نے بھی اپنا کلام پیش کیا اور اہلِ محفل سے بھرپور داد وصول کی۔
اس موقع پر حاجی حسن خان، صحافی شاکر انصاری، ڈاکٹر اظہر انصاری، حکیم افتخار حسین زیدی، ماسٹر غیور علی خان اور ثقافت علی شیرکوٹی نے سرسید احمد خاں کی تعلیمی خدمات اور ان کے افکار و نظریات کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔ مقررین نے کہا کہ قوم کی ترقی کا راستہ تعلیم سے ہوکر گزرتا ہے، اس لیے روایتی تعلیم کے ساتھ جدید علوم اور بالخصوص سائنس کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
تقریب میں حکیم انور، صحافی فیضان انصاری، شفیق احمد منا، اعجاز اکبر، ارمان حیدر، ابوذر، آفتاب شیخ، نعیم سیفی، عمران قریشی، ارحم انصاری، محمد مشتاق راجہ، عبداللہ غالب، ڈاکٹر راحت حمید، تاجدار حسین، معراج ملتانی اور ریاض اکبر سمیت دیگر معززین موجود رہے۔ سامعین نے شعرائ کے کلام کو خوب سراہا اور بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔
آخر میں تقریب کے کنوینر حیدر علی آڑھتی نے تمام مہمانوں، شعرائ اور شرکائ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو دیگر علوم کے ساتھ عصری تعلیم حاصل کرنے کی طرف بھی خصوصی طور پر راغب کیا جانا چاہیے، تاکہ قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais