جمہوریت کے تحفظ کے لیے شفاف انتخابات اور آزاد میڈیا ناگزیر: مقررین
پریس کلب آف انڈیا میں ''وائلنس فری انڈیا'' کے اجلاس کا انعقاد، دلت، پسماندہ اور اقلیتی فرقوں کے لیڈران کا ملک کی سیاسی و سماجی صورت حال پر اظہار تشویشنئی دہلی،18 اکتوبر(ہ س)۔ دلت، پسماندہ اور اقلیتی برادریوں کی تنظیموں کے مشترکہ مہم ''وائلنس
جمہوریت کے تحفظ کے لیے شفاف انتخابات اور آزاد میڈیا ناگزیر: مقررین


پریس کلب آف انڈیا میں 'وائلنس فری انڈیا' کے اجلاس کا انعقاد، دلت، پسماندہ اور اقلیتی فرقوں کے لیڈران کا ملک کی سیاسی و سماجی صورت حال پر اظہار تشویشنئی دہلی،18 اکتوبر(ہ س)۔

دلت، پسماندہ اور اقلیتی برادریوں کی تنظیموں کے مشترکہ مہم 'وائلنس فری انڈیا' (تشدد سے پاک ہندوستان) مہم کے تحت ہفتے کی سہ پہر پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں ’’ہندوستان میں آئینی جمہوریت کی موجودہ صورت حال اور الیکشن کمیشن آف انڈیا سے متعلق تنازعات‘‘ کے موضوع پر ایک اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں کثیر تعداد میں مختلف کمیونٹی کے لیڈران، صحافیوں، نوجوانوں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی، پروگرام میں مقررین نے آئینی جمہوریت کے تحفظ، انتخابی عمل میں شفافیت، میڈیا کی آزادی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور جمہوری اداروں کی خودمختاری پر زور دیا۔ پروگرام کو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، آل انڈیا مومن کانفرنس، کیتھولک ایسوسی ایشن آف آرک ڈایوسیس دہلی، امبیڈکر ایجوکیشن ٹرسٹ، بہوجن ایکتا منچ،آموڈے وغیرہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریت کو مضبوط اور صحت مند بنانے میں میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا، کا کردار انتہائی اہم ہے۔ میڈیا عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور مظلوموں کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے حراست میں لیے گئے افراد کے معاملات کو میڈیا میں نمایاں کیے جانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس سے ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سمیت کمزور طبقات کو درپیش مسائل، مبینہ مظالم اور ہجومی تشدد کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پولیس کی کارروائیوں اور قانون کے یکساں نفاذ پر سوالات اٹھائے۔ جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابی عمل شفاف ہونا چاہیے اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

صدر مشاورت فیروز احمد نے عدلیہ کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب اور پسماندہ طبقات کی زمینی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے مکانات تباہ ہو جاتے ہیں اور ضروری دستاویزات ضائع ہو جاتی ہیں، ان کے لیے دوبارہ کاغذات فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں متعلقہ حکام کو متاثرین کے حالات اور عملی دشواریوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔صحافی انیل چمڑیا نے اپنے خطاب میں انتخابی عمل کی شفافیت، عوام کے حق رائے دہی اور جمہوری اداروں پر اعتماد کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پورے ملک اور تمام شہریوں کی نمائندہ ہوتی ہے، اس لیے ہر طبقے کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے سیکولرازم، آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کے حق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مزدوروں، طلبہ اور عام شہریوں کو اپنے مسائل اٹھانے کے لیے مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔ انتخابی نظام کے حوالے سے انہوں نے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کی حمایت کی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال پر پائے جانے والے خدشات کا ذکر کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سمیت جمہوری اداروں کی خودمختاری اور ساکھ برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے راجندر پال گوتم نے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریق? کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے الیکشن کمیشن کام کر رہا ہے، وہ جمہوری اقدار اور اصولوں کے منافی ہے۔ جمہوریت میں الیکشن کمیشن کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے اور اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ، شفاف اور منصفانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دے۔ لیکن اگر الیکشن کمیشن کا طرزِ عمل غیر جمہوری نظر آئے تو اس سے جمہوری نظام اور عوام کے اعتماد پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ آئینی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری غیر جانب داری اور شفافیت کے ساتھ ادا کریں، تاکہ ملک کے جمہوری نظام اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل بلراج ملک نے اپنے خطاب میں عدلیہ کے کردار، شہری آزادیوں اور انتخابی شفافیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔ انہوں نے وی وی پیٹ اور انتخابی عمل کے حوالے سے عوام میں پائے جانے والے خدشات کا ذکر کیا اور کہا کہ انتخابی نظام کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا شفاف اور قابل اعتماد جواب دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے آزادی اظہار کو درپیش چیلنجوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔

ڈاکٹر علیم نے اپنے خطاب میں آزاد صحافت اور قلم کی طاقت کو جمہوریت کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا عوام کی آواز ہے اور معاشرے کے مسائل کو سامنے لانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اظہار رائے کی آزادی کو محدود کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کی آزادی اور شہریوں کے اپنے خیالات بیان کرنے کے حق کا تحفظ ضروری ہے۔

پروگرام میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت کا استحکام صرف انتخابات کے انعقاد سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے شفاف انتخابی عمل، آزاد صحافت، قانون کی بالادستی، شہری آزادیوں کا تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی لازمی ہے، مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ، آزاد میڈیا کی حوصلہ افزائی اور آئینی اداروں کی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے وہ ہر طرح کی قربانیاں دیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande