
قازان، 16 اکتوبر (ہ س)۔ روس میں ہندوستان کے سفیر ونئے کمار نے کہا ہے کہ ہندوستان اور روس کے درمیان 80 سے 90 فیصد تجارت مقامی کرنسیوں میں ہو رہی ہے۔ آنے والے وقت میں اس تناسب میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
قازان میں جاری ٹائم بزنس فورم کے دوران ایک خصوصی گفتگو میں ونئے کمار نے بتایا کہ تجارت کے خواہش مند ممالک کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے خصوصی ووسٹرو کھاتے کھولنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی تھیں۔ کئی ممالک اس سہولت کا استعمال کر رہے ہیں اور روس بھی ان میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 20 سے زیادہ خصوصی ووسٹرو کھاتے کھولے جا چکے ہیں۔ درحقیقت، روس کے 19 بینکوں نے یہ کھاتے کھولے ہیں، جن کے ذریعے تجارتی لین دین کا تصفیہ کیا جا رہا ہے۔
ونئے کمار نے کہا کہ اس نظام کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لیے تجارتی توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ فی الحال، تجارتی لین دین کا ایک بڑا حصہ مقامی کرنسیوں میں ہو رہا ہے۔ اگرچہ اس تناسب میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، لیکن یہ تقریباً 80 سے 90 فیصد کے درمیان ہے۔
قازان میں منعقدہ تاتارستان-ہندوستان بزنس فورم کے دوران انہوں نے تجارت، مقامی کرنسیوں میں لین دین اور ثقافتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔
ونئے کمار نے کہا کہ علاقائی حکومتوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور وسائل پر مبنی صنعتوں کو دی جانے والی مراعات کے باعث روس کے مختلف علاقے ہندوستانی بازار کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان نے روس کے مختلف علاقوں کے تجارتی وفود کو ہندوستان آنے کی ترغیب دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی تجارتی چیمبرز، کاروباری شخصیات اور ثقافتی وفود روس میں منعقد ہونے والے تجارتی میلوں اور پروگراموں میں مسلسل شرکت کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان وفود کے تبادلے کا دائرہ بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک وسیع ہوا ہے۔
ونئے کمار کے مطابق، اسی سلسلے میں تاتارستان-ہندوستان بزنس فورم کا آغاز گزشتہ سال ہوا تھا اور اب اس کا دوسرا ایڈیشن منعقد کیا جا رہا ہے۔ سال 2025 میں منعقدہ پہلے ایڈیشن میں ہندوستان کی 20 ریاستوں اور روس کے پانچ علاقوں نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر مجموعی طور پر 19 مفاہمت ناموں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے۔
ہندوستانی برآمدات میں اضافے پر زور
ہندوستانی برآمدات پر زور دیتے ہوئے ونئے کمار نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ہندوستان کی برآمدات بھی بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے روس کے معروف صنعتی میلے ’انپروم‘ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس میلے کا پہلا ہندوستانی ایڈیشن گزشتہ ماہ نئی دہلی میں کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا تھا۔
روس میں ہندوستانی فلموں کی مقبولیت بڑھانے کی کوششیں
ونئے کمار نے کہا کہ روس میں ہندوستانی فلموں کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے ہندوستان مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ راج کپور اور امیتابھ بچن کی فلموں کے دور سے چلے آ رہے دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات اب مشترکہ فلم سازی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں سے فلمی شخصیات کے دوروں، میڈیا اداروں کے درمیان تعاون اور فلم و ٹیلی ویژن پروڈکشن کے پلیٹ فارم کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ تاتارستان-ہندوستان فورم میں بھی فلم فیسٹیول کو ایک خصوصی حصے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تخلیقی صنعتوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے مؤثر افراد بھی دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ روس میں منعقدہ عالمی بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول میں تقریباً 2,250 ہندوستانی نوجوانوں نے شرکت کی، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
مشترکہ فلم سازی کے نئے مواقع
اس موقع پر ایک اور مقرر نے مشترکہ فلم سازی کے بارے میں تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں کئی روسی فلموں کی شوٹنگ ہندوستان میں ہوئی ہے، جبکہ ہندوستانی فلموں کی شوٹنگ روس میں کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ہندوستان میں فلمائی گئی دو فلموں کی اسکریننگ یہاں منعقد کی گئی تھی۔ ان میں سے ایک فلم یہاں کے ٹی ایم ٹی ٹی وی چینل کے لیے تیار کی گئی تھی۔ حال ہی میں ایک اور روسی ٹی وی سیریز کی شوٹنگ بھی ہندوستان میں مکمل ہوئی ہے۔
فی الحال کئی فلمیں پوسٹ پروڈکشن کے مرحلے میں ہیں، جبکہ بعض دیگر فلموں کو ہندوستان میں شوٹنگ کی اجازت بھی مل چکی ہے۔
روس میں ملازمت کے خواہش مند ہندوستانیوں کو سفارت خانے سے رابطے کا مشورہ
ونئے کمار نے گفتگو کے دوران کہا کہ روس میں ملازمت کے مواقع تلاش کرنے کے لیے آنے والے ہندوستانیوں کو ہندوستانی سفارت خانے سے مکمل معلومات حاصل کر لینی چاہئیں، تاکہ وہ کسی مشکل میں نہ پھنسیں۔
انہوں نے بتایا کہ روس نے ہندوستان سے آنے والی افرادی قوت کے لیے 30 فیصد کوٹہ مختص کیا ہے۔ موجودہ وقت میں تقریباً 29 ہزار ہندوستانی روس میں کام کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی