اے ایم یو میں شمسی توانائی پر مبنی پائیدار ٹکنالوجیز کے موضوع پر تربیتی نشست کا اہتمام
علی گڑھ, 16 اکتوبر (ہ س) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی کے سنٹر فار انٹیگریٹیڈ گرین اینڈ رینیویبل انرجی اور الیکٹریکل انجینئرنگ شعبہ نے ایکو ٹیک کلب کے اشتراک سے عمارتوں میں مربوط شمسی توانائی نظام (بی آئی پی وی
اے ایم یو میں شمسی توانائی پر مبنی پائیدار ٹکنالوجیز کے موضوع پر تربیتی نشست کا اہتمام


علی گڑھ, 16 اکتوبر (ہ س)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی کے سنٹر فار انٹیگریٹیڈ گرین اینڈ رینیویبل انرجی اور الیکٹریکل انجینئرنگ شعبہ نے ایکو ٹیک کلب کے اشتراک سے عمارتوں میں مربوط شمسی توانائی نظام (بی آئی پی وی) اور ریل و سڑک کے بنیادی ڈھانچے میں مربوط شمسی توانائی نظام (آر آئی پی وی) کے موضوع پر ایک تربیتی نشست منعقد کی۔ اس کا مقصد پائیدار بنیادی ڈھانچے کے لیے جدید شمسی ٹکنالوجیز کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔

اس پروگرام کا انعقاد جرمن کارپوریشن فار انٹرنیشنل کوآپریشن نے گرانٹ تھارنٹن، سی اسٹیپ اور سی ایس آئی آر -این آئی آئی ایس ٹی کے اشتراک سے کیا۔ اس میں عمارتوں کے بیرونی حصوں، چھتوں، شاہراہوں اور ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں شمسی توانائی کے نظام نصب کرکے زمین کے اضافی استعمال کے بغیر شمسی توانائی حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ سرگرمیاں مشن لائف اور بھارت کے ماحولیاتی عزائم سے ہم آہنگ تھیں۔

پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے طلبہ کو تجسس برقرار رکھنے، روزمرہ کے تجربات سے سیکھنے اور بامعنی مباحثوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے زور دیا کہ مؤثر تدریس ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جس میں طلبہ میں سوالات پوچھنے اور نئے خیالات دریافت کرنے کا جذبہ موجزن ہوتا ہے۔

استقبالیہ خطاب میں سنٹر کی کوآرڈنیٹر پروفیسر صفیہ اختر کاظمی نے مہمانوں، ماہرین اور شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ دیگر شرکاء میں فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے ڈین پروفیسر نثار احمد، ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل، شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے صدر پروفیسر ابو طارق، پروفیسر امتیاز اشرف، پروفیسر اصفر علی خان، پروفیسر اعجاز مسعود اور پروفیسر شیراز کرمانی شامل تھے۔

تکنیکی نشستوں سے سی اسٹیپ میں قابلِ تجدید توانائی شعبے کے سربراہ جناب شانتنو رائے، گرانٹ تھارنٹن بھارت ایل ایل پی میں قابلِ تجدید توانائی کے اسسٹنٹ منیجر مسٹر اکشے بھاردواج اور اے ایم یو کی سابق طالبہ و سی اسٹیپ میں قابلِ تجدید توانائی کی ریسرچر مس ثمر شفیع خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے 2030 تک غیر فوسل ایندھن سے حاصل ہونے والی توانائی کی صلاحیت کو 500 گیگاواٹ تک پہنچانے اور 2070 تک خالص صفر اخراج کا ہدف حاصل کرنے میں ان ٹکنالوجیز کے ممکنہ کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ساختی اور برقی تحفظ، آگ سے بچاؤ، پائیداری اور عمارتوں کے متعلقہ ضوابط و بنیادی ڈھانچے کے قواعد کی پابندی کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

پائیداری کے مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے پروگرام میں کاغذ کے استعمال سے مکمل اجتناب کیا گیا اور تشہیر کے لیے ڈیجیٹل ذرائع جبکہ اسناد کے لیے ای سرٹیفکیٹس استعمال کیے گئے۔ نشست کے اختتام پر ایک کوئز مقابلے کے ذریعہ ان ٹکنالوجیز سے متعلق شرکاء کی فہم کا جائزہ لیا گیا اور انہیں مزید سیکھنے کی ترغیب دی گئی۔ ڈاکٹر قرۃ العین نے کلماتِ تشکر ادا کئے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande