
نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے صحافی نکھل واگلے اور شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راوت کو چیف جسٹس سوریہ کانت اور عدلیہ کے بارے میں دیے گئے بیانات کے سلسلے میں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
یہ درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے دائر کی تھی۔ عدالت نے نکھل واگلے اور سنجے راوت سے جواب طلب کیا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ تاہم، عدالت نے دونوں کو ذاتی طور پر طلب کرنے کی درخواست منظور نہیں کی۔ چیف جسٹس نے کہا، ”ہم وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ فی الحال انہیں ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے سے چھوٹ دے رہے ہیں۔ آگے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔“
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتیں شخصی آزادی اور دیگر حقوق کے تحفظ میں کبھی پیچھے نہیں رہی ہیں، اس لیے اس ادارے پر اس طرح کے حملے انتہائی افسوس ناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی شخصی آزادی یا کسی دوسرے حق کو خطرہ لاحق ہوا ہے، لوگ ہمیشہ مدد کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتے رہے ہیں۔ عدالتوں نے ان حقوق کے تحفظ میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ ایسے میں اگر وہی لوگ عدالتوں کی مذمت کریں، تنقید کریں یا ان پر سخت حملے کریں تو یہ انتہائی افسوس ناک ہے۔
نکھل واگلے اور سنجے راوت نے چیف جسٹس کے اس فیصلے پر تنقید کی تھی جس میں انہوں نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے ایک وفد کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ وہ انتخابی کمیشن کے کام کاج کے سلسلے میں چیف جسٹس سے ذاتی طور پر ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس کے اس فیصلے سے متعلق ایک انگریزی روزنامے کی رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واگلے نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ”**** you CJI!“ لکھا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے یہ پوسٹ حذف کر دی اور اپنے بیان پر معذرت بھی کی۔
دوسری جانب، سنجے راوت نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے 80 ججوں کو لندن میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد