
نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س):۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دہلی میں احتجاج کے دوران طالبات کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے معاملے میں دہلی پولیس پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کی اتھیرا اور راجستھان کی ریتو سمیت متعدد طالبات کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
راہل گاندھی نے اس سلسلے میں کیرالہ کے وزیر داخلہ رمیش چنّی تھلا اور راجستھان پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا سے بات چیت بھی کی ہے۔
راہل گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ساتھ تقریباً 12 منٹ کی ویڈیو شیئر کی۔ انہوں نے لکھا کہ امت شاہ کے ماتحت دہلی پولیس کی مبینہ زیادتیوں کو بے روک ٹوک جاری رہنے نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے 1930 کے دھرسانہ ستیہ گرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سروجنی نائیڈو کی قیادت میں نہتے ستیہ گرہیوں نے پولیس کی لاٹھیاں کھانے کے باوجود جوابی کارروائی نہیں کی تھی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پولیس ہڈیاں توڑ سکتی ہے، لیکن ستیہ گرہ کو نہیں توڑ سکتی۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں، بالخصوص نوجوان خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
راہل گاندھی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی، حراست میں لیے گئے طلبہ کے بیانات اور مبینہ مارپیٹ کے تجربات شامل ہیں۔ ویڈیو میں اتھیرا اور ریتو سمیت بعض طلبہ نے پولیس کی گاڑی اور تھانے میں مبینہ بدسلوکی کا ذکر کیا ہے۔ اس میں طلبہ کی شکایات، راہل گاندھی کی ان سے ملاقات اور پریس کانفرنس کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے کارکنوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق ہے۔ احتجاج کے بعد این ایس یو آئی نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے اس کی خاتون کارکنوں کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ