
نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س)۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سربراہ ابھیجیت دیپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی قومی صدر نیہا بورا کو جمعہ کے روز کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک سے مجوزہ ’لہرا دو ترنگا‘ یاترا سے پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا۔حراست میں لیے جانے سے قبل دہلی پولیس دیپکے کی قیام گاہ پر پہنچی اور انہیں مارچ نہ نکالنے سے متعلق نوٹس دیا۔ اس کے باوجود دیپکے دہلی میں ترنگا ریلی کے لیے روانہ ہوئے، جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ وہیں، نیہا بورا کو منڈی ہاو¿س سے حراست میں لیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق، نئی دہلی علاقے میں امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے بھارتیہناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ ہے۔ اس کے تحت اجازت کے بغیر مظاہرے کرنے، مارچ نکالنے اور بھیڑ جمع کرنے پر پابندی ہے۔
دیپکے نے ایک روز قبل اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ آج شام پانچ بجے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ہونے والی ترنگا یاترا میں شرکت کریں۔ اس اعلان کے بعد پہلے سے تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد مزید بڑھا دی گئی۔ کناٹ پلیس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں 11 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ یاترا کے پیش نظر ٹریفک پولیس نے 21 اہم سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت میں تبدیلی کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔
اس سے قبل عام آدمی پارٹی (آپ) نے دہلی پردیش کے صدر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں پارٹی ہیڈکوارٹر سے ترنگا یاترا نکالی۔ اس میں پارٹی کے ارکان اسمبلی، کونسلر اور کارکنان نے شرکت کی۔
قابل ذکر ہے کہ سی جے پی، بائیں بازو کی جماعتیں، دیگر اپوزیشن پارٹیاں اور طلبہ تنظیمیں اس احتجاج میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اعلی انتخابی کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ دیں اور خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو فوری طور پر روک دیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد