نیپال میں جین زی تحریک سے متعلق 206 مقدمات واپس لینے کی تیاری، 220 ملزمان کو ملے گی راحت
کاٹھمنڈو، 16 اکتوبر(ہ س)۔ نیپال کی وزارت داخلہ نے جین زی تحریک کے دوران سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی سے متعلق 206 مقدمات واپس لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ سابق جج بابورام ریگمی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے وزارت نے ان
نیپال میں جین زی تحریک سے متعلق 206 مقدمات واپس لینے کی تیاری، 220 ملزمان کو ملے گی راحت


کاٹھمنڈو، 16 اکتوبر(ہ س)۔ نیپال کی وزارت داخلہ نے جین زی تحریک کے دوران سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی سے متعلق 206 مقدمات واپس لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ سابق جج بابورام ریگمی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے وزارت نے ان واقعات سے متعلق مقدمات واپس لینے کی پہل کی ہے جن میں نقصان نسبتاً کم ہوا تھا۔

وزارت داخلہ کے مطابق، بابورام ریگمی کی سربراہی والی کمیٹی نے اس نوعیت کے 206 مقدمات واپس لینے کی سفارش کی ہے۔ ان میں پولیس چوکیوں، وارڈ دفاتر اور دیگر سرکاری عمارتوں میں آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت درج مقدمات شامل ہیں۔ ان مقدمات میں مجموعی طور پر 220 افراد ملزم ہیں۔

وزارت کے ایک افسر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں کم نقصان والے واقعات سے متعلق مقدمات واپس لینے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ ان میں سے کئی معاملات میں نقصان کی رقم کا تعین بھی نہیں کیا گیا ہے۔تاہم، سرکاری دفاتر کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے، لوٹ مار اور بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ و آتش زنی کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کے خلاف درج مقدمات واپس نہیں لیے جائیں گے۔ کمیٹی نے مقدمات کو پانچ زمروں میں تقسیم کرکے اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ سنگین نوعیت کے مجرمانہ معاملات واپس نہیں لیے جانے چاہئیں۔ البتہ بعض معاملات میں اگر ملزمان نقصان کی تلافی کرنے کے لیے تیار ہوں تو باہمی رضامندی سے سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

نیپال پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، 9 ستمبر 2025 کو پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں مجموعی طور پر 1,013 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان معاملات میں 1,013 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 273 افراد اب بھی جیل میں ہیں۔

تحریک میں شامل ہونے کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے بعض افراد نے حکومت پر مقدمات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک مطالعاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔پولیس حکام کے مطابق، سرکاری اور نجی املاک میں لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات کے سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کے قتل اور قتل کی کوشش سے متعلق مقدمات بھی درج ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں حکومت کی ہدایت کے بعد پولیس نے اس نوعیت کے معاملات میں نئے مقدمات درج کرنا بند کر دیا ہے۔ تاہم، سنگین جرائم سے متعلق مقدمات واپس لینے کے بارے میں کمیٹی نے واضح طور پر احتیاط برتنے کی سفارش کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande