مہاراشٹر کے نئے مذہبی تبدیلی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج، اے پی سی آر کا عدالت سے آئینی جانچ کا مطالبہ
مذہبی آزادی اور مساوات کے بنیادی حقوق سے متعلق اٹھائے سنگین سوالات۔ نئی دہلی، 16/اکتوبر(ہ س )۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے مہاراشٹر کے نئے مذہبی تبدیلی قانون، مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ، 2026 کی آئینی حیثیت اور قانون
مہاراشٹر کے نئے مذہبی تبدیلی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج، اے پی سی آر کا عدالت سے آئینی جانچ کا مطالبہ


مذہبی آزادی اور مساوات کے بنیادی حقوق سے متعلق اٹھائے سنگین سوالات۔

نئی دہلی، 16/اکتوبر(ہ س )۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے مہاراشٹر کے نئے مذہبی تبدیلی قانون، مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ، 2026 کی آئینی حیثیت اور قانونی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا میں مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) داخل کی ہے۔ تنظیم نے قانون کی بعض دفعات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے ان کی آئینی جانچ اور بنیادی حقوق کے تناظر میں عدالتی جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔

اے پی سی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس بنام ریاستِ مہاراشٹر کے عنوان سے یہ عرضی 14/ اکتوبر 2026 کو اے پی سی آر مہاراشٹر کے سکریٹری شاکر شیخ کے توسط سے دائر کی گئی، جسے ڈائری نمبر 64972/2026 الاٹ کیا گیا ہے۔

مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ، 2026 کو صدارتی منظوری کے بعد 30 جولائی 2026 کو مہاراشٹر حکومت کے گزٹ میں شائع کیا گیا تھا۔ اس قانون میں مذہبی تبدیلی کو منضبط کرنے، اس کے لیے مختلف طریق? کار اور شرائط مقرر کرنے کے ساتھ خلاف ورزی کی صورت میں تعزیری کارروائی کی دفعات بھی شامل ہیں۔

اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ قانون کی بعض دفعات آئین میں دی گئی آزادی? ضمیر، مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی، شخصی آزادی، حقِ رازداری، قانون کے سامنے مساوات اور قوانین کے یکساں تحفظ جیسے بنیادی حقوق کے حوالے سے اہم آئینی سوالات پیدا کرتی ہیں۔ تنظیم نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ ان دفعات کے ذریعے کسی فرد کی ذاتی خودمختاری اور اپنی آزاد مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کے حق پر ریاستی مداخلت اور پابندیوں کی آئینی حدود کہاں تک ہیں۔

اے پی سی آر کے مطابق، مذہب اور ضمیر سے متعلق انفرادی آزادی بنیادی حقوق کا اہم حصہ ہے، اس لیے ایسے قانون کا عدالتی جائزہ ضروری ہے جس کی دفعات شہریوں کے بنیادی حقوق اور معاشرے کے ایک وسیع طبقے کو متاثر کرسکتی ہیں۔ اے پی سی آر نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ متنازع دفعات کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق مناسب اعلانات، ہدایات اور دیگر ضروری ریلیف فراہم کرے۔ اس میں قابلِ سماعت اور قانونی طور پر قابلِ قبول ہونے کی صورت میں متنازع دفعات پر عبوری تحفظ یا حکمِ امتناع جاری کرنے کی درخواست بھی شامل ہے۔

اے پی سی آر انسانی حقوق، شہری آزادیوں، آزادی? ضمیر، قانون کے سامنے مساوات اور بلاامتیاز قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ اس عرضی کا مقصد چیلنج کیے گئے قانون کو آئین میں ہر شخص کو حاصل ضمانتوں کی کسوٹی پر پرکھوانا اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی مداخلت حاصل کرنا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande