خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، 20 اکتوبر کو سماعت
پشاور (خیبر پختونخوا)، پاکستان، 16 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے پشاور ہائی کورٹ میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی عرضی پر 20 اکتوبر کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ پی
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، 20 اکتوبر کو سماعت


پشاور (خیبر پختونخوا)، پاکستان، 16 اکتوبر (ہ س)۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے پشاور ہائی کورٹ میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی عرضی پر 20 اکتوبر کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور وکیل سلمان خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے خلاف دو عرضیاں دائر کی ہیں۔

’دی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق، گوہر خان اور سلمان خان نے اپنی عرضی میں وفاقِ پاکستان، صدر، وزیر اعظم، خیبر پختونخوا کے گورنر اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا ہے۔

دریں اثنا، تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے بھی صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے وفاقی حکومت کے اقدامات کو چیلنج کرتے ہوئے الگ عرضی دائر کی ہے۔ یہ عرضی شیعہ اسلامی سیاسی و مذہبی تنظیم مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنماو¿ں نے مشترکہ طور پر دائر کی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت منظوری دی تھی، جس کے بعد 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کے لیے صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا۔

برطرف وزیر اعظم عمران خان پی ٹی آئی کے بانی ہیں۔ وفاقی حکومت کے ان اقدامات سے پہلے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔

وفاقی حکومت کی نگرانی میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کا انتظام سنبھال لیا ہے۔ ان کی مدد کے لیے 11 رکنی ’ٹیکنوکریٹ خیبر پختونخوا مشاورتی کونسل‘ بھی تشکیل دی گئی ہے۔

ایک روز قبل ہی پارلیمنٹ نے مشترکہ اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد اپوزیشن اتحاد ٹی ٹی اے پی نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چودھری کی پیش کردہ قراردادیں منظور کی گئیں۔ ان قراردادوں کا مقصد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت 11 اکتوبر کو جاری کیے گئے صدارتی اعلان کی منظوری حاصل کرنا تھا۔ یہ قراردادیں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان شدید بحث و تکرار کے بعد منظور کی گئیں۔

پی ٹی آئی نے اپنی عرضی میں پشاور ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کیا جائے۔ یہ عرضی وکیل علی زمان کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔

پی ٹی آئی نے دلیل دی ہے کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر ایک منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات محدود کرنا امتیازی سلوک ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سیاسی اختلافات کی بنیاد پر صوبائی انتظامیہ سے اس کے اختیارات نہیں چھین سکتی۔

عرضی میں بلوچستان کی مثال بھی دی گئی ہے، جہاں دہشت گردی اور جانی و مالی نقصان کے باوجود گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 2007 سے 2015 کے درمیان خیبر پختونخوا کے حالات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ان مثالوں کے ذریعے یہ دلیل دی گئی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات امتیازی نوعیت کے ہیں۔

پارٹی نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور صوبے میں امن بحال کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے، لیکن اس نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کے خلاف مو¿ثر کارروائی نہ کرنے کے الزامات کو سیاسی دباو¿ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی نے کہا کہ 2024 کے انتخابات میں اس نے خیبر پختونخوا میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔ عرضی میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر راج نافذ کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 234 میں مقررہ آئینی تقاضوں اور طریقہ کار کو پورا نہیں کیا گیا۔

پارٹی نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں اپنے ’لانگ مارچ‘ کے دوران اس کا کوئی غیر قانونی قدم اٹھانے کا منصوبہ نہیں تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande