
شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ”صاف کیمپس – سرسبز مستقبل“ کے تحت خصوصی مہم 6.0 کا آغاز
نئی دہلی ،16اکتوبر ( ہ س )۔
انسان کے اخلاق و اطوار، اس کے سلیقے اور احساس ذمہ داری کا صحیح اندازہ اس طرزِ عمل سے ہوتا ہے جو وہ اپنے روزمرہ کے معمولات اور اپنے زیر استعمال مقامات کی نگہداشت میں اختیار کرتا ہے۔ وہ جس جگہ رہتا، پڑھتا یا اپنے دوسرے کام انجام دیتا ہے، اسے صاف ستھرا اور مرتب رکھنا اس کے حسن سلیقہ اور دوسروں کے حقوق کے احترام کی علامت ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر اقتدار محمد خان، ڈین، فیکلٹی برائے انسانی علوم و لسانیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں طلبہ و طالبات کے درمیان”صفائی اور پاکیزگی“ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پروفیسر موصوف نے مزید فرمایا کہ اس نوعیت کے پروگراموں کا مقصد طلبہ میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ صفائی محض وقتی سرگرمی نہیں، ایک مستقل عادت، اخلاقی ذمہ داری اور مہذب اجتماعی زندگی کی بنیاد ہے۔واضح رہے کہ جامعہ میں 2/ اکتوبر تا 31 /اکتوبر 2026 ”صاف کیمپس- سرسبز مستقبل“ کے تحت ایک خصوصی مہم 6.0 منائی جا رہی ہے۔ اس کابنیادی مقصد آگاہی مہمات،پمفلٹ، پوسٹر، بینر،خصوصی خطابات، کانفرنس، سیمینار، ورک شاپ اوردیگر عملی سرگرمیوں کے ذریعے ادارے میں صفائی و ستھرائی کو فروغ دینا ہے۔اس حوالے سے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں بھی مختلف موضوعات جیسے ”ماحولیاتی تحفظ کے عملی اقدامات“، ”فضلہ کا مفید استعمال“، ”جدید اور اختراعی طریقے“، ”صاف ستھرا کیمپس“کے تحت کل پانچ پروگراموں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر محمد مشتاق، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے فرمایا کہ اسلام میں صفائی کاتصورمحض جسم و لباس کی پاکیزگی تک محدود نہیں،بلکہ اس کا دائرہ دل و ذہن کی تطہیر اور کردار کی اصلاح تک وسیع ہے، نیز قرآن اور سیرت میں ظاہری و باطنی طہارت کے ساتھ گھروں، راستوں، درختوں،نشستوں اور عوامی جگہوں کو صاف رکھنے کی بھی خصوصی تاکید ملتی ہے۔
پروفیسر سید شاہد علی، سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے نفس کے اخلاقی رجحانات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں نفس امارہ اور نفس لوامہ کی اصطلاحات اس کی مختلف کیفیت کو واضح کرتی ہیں، اس سلسلے میں ان کے درمیان نیکی و بدی کی داخلی کشمکش کونماز، ذکر، صدقہ اور نیک اعمال کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ جناب جنید حارث، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے اپنے صدارتی خطاب میں طلبہ کو اس جانب متوجہ کیا کہ صفائی و پاکیزگی کا شعور محض انفرادی عمل تک محدود نہ رہے، بلکہ یہ ان کی اجتماعی زندگی کا مزاج بنے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شعبہ کے سفیر کی حیثیت سے طلبہ صفائی و ماحولیاتی تحفظ کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ حکومتی اداروں کے ساتھ اشتراک و تعاون کے ذریعے مربوط منصوبہ بندی کریں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، تاکہ صفائی کا شعور محض ایک وقتی مہم کے بجائے معاشرتی زندگی کی مستقل قدر بن سکے۔پروگرام کا آغاز شعبہ کے طالب علم محمد یوسف کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ نظامت اور کلمات تشکر کے فرائض خدیجہ، سابق جنرل سکریٹری بزم طلبہ نے انجام دیے۔فوٹو گرافی محمد حمزہ نے کی۔
اس موقع پرشعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر خورشید آفاق، ڈاکٹر محمد اسامہ اور ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین کے علاوہ ایم اے اور بی اے کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais